“اقوام متحدہ: نام کا ادارہ یا عالمی طاقتوں کا آلہ؟”

**”اقوام متحدہ صرف نام کا ادارہ ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، آج تک یہ کسی جنگ کو رکوانے میں کامیاب نہیں ہوا۔”**
یہ الفاظ صرف ایک شخص کے نہیں، بلکہ دنیا کے کئی خطوں کے مظلوموں کی آواز بن چکے ہیں۔

#### 🔍 اقوام متحدہ کا قیام:

اقوام متحدہ 1945 میں عالمی امن، انسانی حقوق اور انصاف کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن گزشتہ **70 سالوں میں فلسطین، کشمیر، شام، عراق، افغانستان، یمن** جیسے علاقوں میں ہونے والے مظالم اور جنگیں **یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا اقوام متحدہ واقعی مؤثر ہے؟**

#### 🇺🇸 امریکہ اور ویٹو پاور:

امریکہ سمیت 5 ممالک کو **ویٹو پاور** حاصل ہے۔ جب بھی کسی قرارداد میں ان کے مفادات کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ اسے ویٹو کر دیتے ہیں — چاہے پوری دنیا اس کی حمایت کر رہی ہو۔
📌 **فلسطین پر اسرائیلی جارحیت**
📌 **کشمیر پر بھارتی مظالم**
📌 **عراق جنگ کا جھوٹا بہانہ**
ان تمام معاملات میں امریکہ نے اقوام متحدہ کو صرف ایک **ربر اسٹیمپ** کی طرح استعمال کیا۔

#### 🧩 کیا اقوام متحدہ میں اصلاح ممکن ہے؟

اقوام متحدہ کے بنیادی اصول تو اعلیٰ ہیں، مگر **عملی کردار میں طاقتور ممالک کے دباؤ** نے اس کی ساکھ کو مجروح کر دیا ہے۔ جب تک **ویٹو پاور کا نظام ختم یا محدود نہیں ہوتا**، تب تک اقوام متحدہ ایک **”مظلوموں کی سننے والی” نہیں، بلکہ طاقتوروں کی چلانے والی”** تنظیم بنی رہے گی۔

اقوام متحدہ کو اگر واقعی عالمی امن کا ادارہ بنانا ہے تو اسے طاقت کے توازن سے نکل کر **انصاف، مساوات اور غیر جانبداری** کی طرف آنا ہوگا، ورنہ یہ ادارہ صرف فائلوں، قراردادوں اور تصاویر تک محدود رہ جائے گا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں