769 دن جیل میں: عمران خان کی قربانی تاریخ کا روشن باب بن چکی ہے

عمران خان: وہ شخص جسے جھکانے کی ہر کوشش ناکام رہی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی رہنما جیل گئے، لیکن جیل میں رہ کر بھی پوری قوم کے دل پر حکمرانی صرف عمران خان نے کی ہے۔ آج جب انہیں 769 دن ہو چکے ہیں، تو یہ محض ایک عدد نہیں — بلکہ:

یہ ان کی قربانی، حوصلے، غیرت، اور عوامی مزاحمت کا نشان ہے۔


جبر، سازش، اور ریاستی طاقت کے سامنے ایک اکیلا شخص

گزشتہ دو سالوں میں عمران خان پر:

  • 150 سے زائد مقدمات قائم کیے گئے

  • الیکشن لڑنے سے روکنے کی کوششیں کی گئیں

  • پارٹی کو توڑنے، بند کرنے، ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی

  • میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا

  • جسمانی، قانونی، ذہنی تشدد تک پہنچنے والے ہتھکنڈے آزمائے گئے

لیکن نتیجہ کیا نکلا؟

عمران خان عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکا۔


عوامی مزاحمت: عمران خان کا سب سے بڑا ہتھیار

جب 9 مئی جیسے واقعات کے بعد یہ سمجھا گیا کہ تحریک انصاف ختم ہو چکی، تو:

  • عام لوگوں نے آزاد حیثیت میں عمران خان کے امیدواروں کو منتخب کیا

  • سوشل میڈیا پر عمران خان کا بیانیہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا

  • دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کا اصل سرمایہ اس کا عوام ہے، کوئی ادارہ نہیں


جیل میں قید عمران خان، مگر دلوں کا وزیراعظم

آج عمران خان:

  • نہ کسی ٹی وی پر نظر آتا ہے

  • نہ کسی اسمبلی میں موجود ہے

  • نہ میڈیا کے ٹاک شوز کا حصہ ہے

لیکن وہ:

ہر پاکستانی کے دل و دماغ میں زندہ ہے۔

یہی وہ مقام ہے جو عظیم انقلابی لیڈرز کو ملتا ہے — جیسے نیلسن منڈیلا، ایردوان، مہاتما گاندھی یا قائداعظم محمد علی جناح۔


ریاست کا رویہ: ایک رہنما کو دشمن جیسا بنانا

جب ایک سابق وزیر اعظم، جسے کروڑوں عوام نے منتخب کیا ہو، اسے:

  • بدترین حالات میں قید رکھا جائے

  • اپنے اہلِ خانہ، وکلاء اور صحافیوں سے ملنے نہ دیا جائے

  • انصاف کے نام پر مسلسل مقدمات میں الجھایا جائے

تو یہ محض عمران خان کے خلاف نہیں، بلکہ قوم کے ووٹ، شعور، اور وقار کے خلاف اقدام ہوتا ہے۔


عمران خان کی جدوجہد: سیاست نہیں، قوم کی خودداری کی جنگ

عمران خان کی قید ایک پیغام ہے:

“میں بکنے کے لیے نہیں آیا، لڑنے کے لیے آیا ہوں!”

انہوں نے نہ ڈیل لی، نہ معافی مانگی، نہ فرار اختیار کیا۔ وہ کہہ سکتے تھے:

  • مجھے ملک سے جانے دو

  • مقدمات واپس لو

  • میں خاموش ہو جاتا ہوں

لیکن انہوں نے کہا:

“جیل میں مر جاؤں گا، مگر غلامی قبول نہیں کروں گا!”


قوم کیا کہہ رہی ہے؟

  • “خان ہمارا فخر ہے”

  • “خان کے بغیر کوئی سیاست نہیں”

  • “اگر لیڈر ایسا ہو، تو قوم جھکنے نہیں دیتی”

  • “عمران خان آج نہیں تو کل ضرور سرخرو ہو گا”

سوشل میڈیا سے لے کر عام گلیوں تک، مزدور سے لے کر ڈاکٹر تک، نوجوان سے لے کر بزرگ تک — ہر شخص عمران خان کو قربانی کی علامت مانتا ہے۔


دنیا کیا دیکھ رہی ہے؟

عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی میڈیا — سب یہ سوال اٹھا چکے ہیں:

  • کیا پاکستان میں سیاسی انتقام کو انصاف کا نام دیا جا رہا ہے؟

  • کیا عمران خان کی قید جمہوریت کی تضحیک نہیں؟

  • کیا ایک مقبول عوامی رہنما کو ریاستی طاقت کے ذریعے ختم کرنا ممکن ہے؟

دنیا جان چکی ہے کہ:

عمران خان کو جیل میں رکھ کر، عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔


نتیجہ: تاریخ فیصلہ کرے گی، اور فیصلہ عمران خان کے حق میں ہو گا

769 دن کی قید میں عمران خان نے:

  • خود کو مظلوم نہیں، رہنما ثابت کیا

  • سازشوں کا جواب بیانیے سے دیا

  • عوام کو شعور، غیرت، اور حوصلہ دیا

اب وقت آ چکا ہے کہ:

  • عمران خان کو فوری رہا کیا جائے

  • ان پر بنائے گئے جھوٹے مقدمات کو ختم کیا جائے

  • جمہوریت کو اصل معنوں میں بحال کیا جائے

کیونکہ اگر عمران خان کو انصاف نہیں ملا، تو یہ صرف ایک شخص کا نہیں، پوری قوم کے خوابوں کا قتل ہو گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں