90 دن والی بڑھک کا وقت ختم ہو رہا ہے!” — پی ٹی آئی کے ایکٹوسٹ الادین کا گنڈا پور پر سخت ویڈیو پیغام

سیاسی وعدوں کا احتساب، یا اندرونی بغاوت؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) میں اندرونی تنقید کا ایک نیا باب کھل گیا ہے، جب پارٹی سے وابستہ ایک سرگرم کارکن، الادین، نے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف ایک سخت ویڈیو پیغام جاری کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے نہ صرف 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کے وعدے پر سوال اٹھایا، بلکہ گنڈا پور کے طرزِ سیاست کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔


ویڈیو پیغام کا لب لباب: “نہ وعدہ نبھایا، نہ میدان میں ڈٹے”

الادین نے ویڈیو میں کہا:

“90 دن والی بڑھک کا وقت ختم ہونے والا ہے، عوام نوسربازیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ بڑھکیں مار کر عوام کا دھیان بٹاتا ہے، اور جب کھڑے ہونے کی بات آتی ہے تو میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے، گنڈا پور!”

انہوں نے مزید کہا:

“جب تک تُو اڈیالہ نہیں جائے گا، تیری منجی ٹھکے گی! 90 دن پورے ہونے کے بعد ہم تجھ سے استعفیٰ لے کر دکھائیں گے!”

یہ الفاظ صرف سیاسی تنقید نہیں، بلکہ عوامی غصے کی نمائندگی بھی کرتے ہیں جو اب پارٹی کے اندر سے ہی ابھر رہا ہے۔


پس منظر: 90 دن کا وعدہ، جو اب وعدہ خلافی بنتا جا رہا ہے

جب علی امین گنڈا پور نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا، تو ان کی جانب سے پہلا بڑا وعدہ یہی تھا کہ “ہم 90 دن کے اندر اندر صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے، اور جمہوریت کو نچلی سطح تک پہنچائیں گے۔”

تاہم، یہ وعدہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود پورا نہ ہو سکا۔ 90 دن کا وقت مکمل ہونے کو ہے، اور گنڈا پور نہ صرف الیکشن کروانے میں ناکام رہے بلکہ ان کے بیانات میں تضاد اور تاخیر کا رجحان بھی نمایاں ہو رہا ہے۔


الادین کون ہیں؟ اور ان کی بات کو سنجیدہ کیوں لیا جا رہا ہے؟

الادین کو پی ٹی آئی کے حلقوں میں ایک سرگرم کارکن اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی بات کو اس لیے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ پارٹی کے اندر سے تنقید کر رہے ہیں، اور عوامی جذبات کی ترجمانی کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔

ان کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے دیکھا، شئیر کیا اور اس پر تبصرے کیے۔ کئی لوگوں نے الادین کی حمایت کی، جبکہ کچھ نے اسے اندرونی انتشار کی علامت قرار دیا۔


کیا گنڈا پور پر دباؤ بڑھ رہا ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں جب علی امین گنڈا پور کو تنقید کا سامنا ہے۔ ان پر پہلے بھی الزام لگ چکے ہیں کہ وہ پارٹی چیئرمین کے نام پر خود کو سیاسی طور پر چمکانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب عملی اقدامات کی بات آتی ہے تو کارکردگی صفر ہوتی ہے۔

اب جب ان کی اپنی پارٹی کے کارکن ہی ان پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا وہ آئندہ بھی قیادت کی پوزیشن پر برقرار رہ پائیں گے یا نہیں۔


کیا واقعی استعفیٰ آئے گا؟ یا یہ ایک اور دعویٰ؟

الادین کے الفاظ “ہم تجھ سے استعفیٰ لے کر دکھائیں گے!” اگرچہ جذباتی انداز میں کہے گئے ہیں، مگر یہ جملہ سیاسی طور پر ایک بڑا دعویٰ ہے۔ کیا پارٹی کے اندر واقعی ایسی لابی موجود ہے جو گنڈا پور کے خلاف تحریک چلانے کی طاقت رکھتی ہے؟ یا یہ محض دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے؟ یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔


 پی ٹی آئی میں احتساب کا وقت یا افتراق کی ابتدا؟

پی ٹی آئی ہمیشہ سے خود کو ایک مختلف، اصول پسند اور عوامی جماعت قرار دیتی آئی ہے۔ لیکن جب کارکن خود میدان میں آئیں اور قیادت کے خلاف آواز بلند کریں، تو یہ یا تو جمہوری رویے کی علامت ہوتا ہے، یا پارٹی کے اندر کسی بڑی دراڑ کا اشارہ۔

الادین کی ویڈیو فی الحال ایک تنقیدی بیانیہ ہے، لیکن اگر مزید کارکن یا رہنما اسی لہجے میں بولنے لگے، تو یہ ایک سنگین سیاسی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔


اب کیا ہوگا؟

  • کیا علی امین گنڈا پور اس تنقید کا جواب دیں گے؟

  • کیا پی ٹی آئی قیادت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گی؟

  • اور سب سے اہم: کیا واقعی 90 دن کا وعدہ وعدہ خلافی بنے گا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنے والے چند ہفتوں میں سامنے آ سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں