اگر گھر ہر وقت سجا سنورا ہو، تو شاید بچوں کے چہروں پر مٹی کی مسکراہٹ نہیں رہی ہوگی…
“اگر چھوٹے بچوں والا گھر ہر وقت صاف ستھرا اور آراستہ ہو،
تو یقیناً اس گھر کے بچوں سے ان کا بچپن چھن چکا ہے…!”
یہ جملہ صرف صفائی کی نہیں، معاشرتی ترجیحات کی تنقید ہے۔ وہ گھر جہاں ہر کونا چمکتا ہو، ہر کھلونا ترتیب سے رکھا ہو، اور ہر چیز اپنی “مناسب جگہ” پر ہو — وہاں شاید بچوں کو وہ آزادی حاصل نہیں جس میں وہ مٹی میں کھیل سکیں، دیواروں پر رنگ کر سکیں، یا ہر دن کچھ نہ کچھ گرا کر ہنس سکیں۔
چھوٹے بچے جہاں ہوتے ہیں، وہاں شور ہوتا ہے، رنگ بکھرتے ہیں، اور کبھی کبھار دودھ کا گلاس بھی!
اگر ایسا نہیں ہو رہا، تو سوال یہ نہیں کہ ماں کتنی “سلیقہ مند” ہے، بلکہ یہ ہے کہ بچے کیا واقعی بچپن جی رہے ہیں؟
معاشرے نے ماؤں پر ایک ایسا بےرحم معیار مسلط کر دیا ہے جہاں انہیں اپنے بچوں کی پرورش بھی کرنی ہے اور گھر کو “انسٹاگرام پر فٹ” بھی رکھنا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
جو گھر بچوں کی ہنسی، ان کے چھوٹے قدموں کی دوڑ، اور ان کی تخلیقی شرارتوں سے نہ گونجے — وہ گھر صرف سجاوٹ ہے، زندگی نہیں۔
بچوں کو ایسا ماحول چاہیے جہاں وہ خاک میں بیٹھ کر آسمان بنا سکیں، کھلونے توڑ کر خود جوڑنے کی کوشش کریں، اور دیواروں پر اپنے خیالی کارٹون کے رنگ بھر سکیں۔
صفائی ضرور ہو، نظم و ضبط بھی ضروری ہے — مگر وہ بچپن کی قیمت پر نہیں۔
اگر آپ کا گھر کبھی کبھی بکھرا ہوا لگے، تو خوش ہو جائیے…
کیونکہ وہاں بچے “رہ” نہیں رہے، زندگی جی رہے ہیں۔




