“ریٹائرمنٹ کے بعد پردیس کا سکون، تنہائی کی خاموش سزا بن سکتا ہے!”

ردیس میں ریٹائرڈ زندگی – ایک خواب یا تنہائی کا فریب؟

ریٹائرمنٹ بظاہر ایک پُرسکون مرحلہ لگتا ہے۔ نوکری، ذمہ داریاں، روزمرہ کا دباؤ — سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص ریٹائرمنٹ کے بعد وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں نئی زندگی شروع کرتا ہے، تو ایک ان دیکھا اور ان کہی حقیقت اس کا استقبال کرتی ہے — احساسِ تنہائی۔

🧠 تحقیق کیا کہتی ہے؟

ایک حالیہ ریسرچ، جو کہ معروف سائنسی جریدے “سائیکولوجی اینڈ ایجنگ” میں شائع ہوئی، اس موضوع کو گہرائی سے بیان کرتی ہے۔ نیدرلینڈز میں کیے گئے اس سروے میں 4995 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی دوسرے ملک میں رہائش پذیر تھے، جبکہ 1338 افراد وہ تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے آبائی وطن میں مقیم رہے۔

نتائج حیران کن تھے — دوسرے ملک میں مقیم ریٹائرڈ افراد میں احساسِ تنہائی اور جذباتی خالی پن کی سطح نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔

📉 کمیونٹی کی غیر موجودگی، سب سے بڑا سبب

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے تحت ہونے والی اس تحقیق کے مطابق:

“نئے ملک میں اپنی کمیونٹی، زبان، اور ثقافتی شناخت سے دوری تنہائی کو ایک اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے۔”

ریسرچ کی مرکزی مصنفہ نے اس بات پر زور دیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ترکِ وطن کا سوچنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس فیصلے کے نفسیاتی اثرات پر بھی غور کریں، خاص طور پر یہ کہ وہ اپنے پرانے سماجی روابط کو کیسے برقرار رکھ سکیں گے۔

👥 سماجی تعلقات کی اہمیت

ریٹائرڈ زندگی میں دوستوں، رشتہ داروں اور ہم زبان لوگوں کی موجودگی نہ صرف جذباتی سپورٹ کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ نفسیاتی صحت کے لیے بھی ایک محافظ کا کردار ادا کرتی ہے۔ جب یہ سسٹم اچانک غائب ہو جاتا ہے، تو فرد خود کو “اجنبیوں کے شہر” میں تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔

🗣️ ماہرین کی رائے

پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم ملک، سابق چیئرمین شعبہ اردو، یونیورسٹی آف پنجاب، لاہور نے اس تناظر میں نہایت فکر انگیز تبصرہ کیا:

“ریٹائرمنٹ کے بعد دوسرے ملکوں میں زندگی بسر کرنا کوئی آسان کام نہیں، لیکن ہم اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔”

یہی وہ کشمکش ہے جو بہت سے افراد کو ذہنی پریشانی اور الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک طرف اولاد کا روشن مستقبل، اور دوسری طرف اپنا تنہا حال۔

🛑 حل کیا ہو سکتا ہے؟

ریٹائرمنٹ کے بعد کسی دوسرے ملک میں رہنے کا فیصلہ کرتے وقت سماجی سپورٹ نیٹ ورک کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

کمیونٹی سینٹرز، آن لائن سوشل گروپس، زبان سیکھنے کے کورسز، اور مذہبی یا ثقافتی اجتماعات میں شرکت تنہائی کو کم کر سکتی ہے۔

اور اگر ممکن ہو، تو آبائی ملک سے تعلق قائم رکھنا — جیسے کہ باقاعدہ ویڈیو کالز، سال میں ایک بار واپسی کا پلان، یا پرانی کمیونٹی سے جڑے رہنا — ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ریٹائرمنٹ نئی شروعات ہو سکتی ہے، لیکن اس شروعات میں اگر جذباتی سہارے نہ ہوں، تو بیرون ملک کی پر آسائش زندگی بھی ایک خالی کمرے کی مانند محسوس ہو سکتی ہے۔ پردیس کا فیصلہ جذبات سے نہیں، سمجھ داری سے کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں