سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کا اقدام: پاکستان کو ممکنہ سیلاب سے متعلق آگاہ کر دیا گیا

لاہور: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریاؤں میں ممکنہ سیلابی کیفیت سے متعلق بر وقت اطلاع دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد اور خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 24 اگست کی صبح بھارت کی جانب سے پاکستان کو مطلع کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے مقام پر دریائے طوی میں پانی کا بہاؤ بڑھنے والا ہے، اور اس کے نتیجے میں بھارت اضافی پانی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اطلاع کے بعد پاکستانی حکام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تاکہ دریا کے نچلے علاقوں میں رہنے والے افراد کو ممکنہ سیلابی صورت حال سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

بھارتی ہائی کمیشن نے باضابطہ طور پر حکومتِ پاکستان کو اس پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ غیر معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے، جو خاص طور پر حساس علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے اس اطلاع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔

محکمہ آبپاشی، ضلعی انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور دیگر ریسکیو اداروں نے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی حالت میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان کی جانب سے جاری کی جانے والی وارننگز کو سنجیدگی سے لیں۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ، استعمال اور معلومات کی بروقت ترسیل سے متعلق ذمہ داریاں قبول کی تھیں۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ جب بھی اپنے دریا سے کوئی بڑا آبی اخراج کرے، تو پاکستان کو فوری آگاہ کرے تاکہ کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی اطلاع ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات میں مزید شفافیت اور رابطے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پانی کے مسئلے پر کسی بھی قسم کی کشیدگی یا قدرتی آفات سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔

پاکستانی عوام اور خاص طور پر دریا کے آس پاس رہنے والے افراد سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کریں، اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو یا ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں