“پانی پر سیاست یا بقاء کی جنگ؟ — ڈیم نہ بنانا کیا قومی خودکشی نہیں؟”
“جب دشمن پانی روکے تو جنگ کی بات ہوتی ہے، لیکن جب اپنے ہی پانی ضائع کریں تو خاموشی کیوں؟”
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی معیشت، خوراک اور روزگار کا دار و مدار زراعت پر ہے، اور زراعت کا انحصار پانی پر۔ مگر بدقسمتی سے ہر سال کروڑوں ایکڑ فٹ پانی صرف اس لیے سمندر کی نذر ہو جاتا ہے کیونکہ ہم نے اس کے ذخیرے (storage) کا بندوبست نہیں کیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف غفلت ہے یا ایک منظم مجرمانہ لاپرواہی؟ کیا یہ دہشتگردی سے کم خطرناک ہے کہ قوم کو جان بوجھ کر قحط، خشک سالی اور سیلاب کی دلدل میں دھکیلا جائے؟
✅ فوج کیوں ڈیم نہیں بناتی؟
فوج کا کام سیکیورٹی ہے، انفراسٹرکچر کی تعمیر نہیں۔ مگر جب قومی سطح پر ادارے ناکام ہوں تو لوگ اُمید فوج سے ہی باندھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں:
“اگر فوج ملک بچا سکتی ہے تو ڈیم کیوں نہیں بناتی؟”
حقیقت یہ ہے کہ ڈیم بنانا سیاسی، قانونی، ماحولیاتی اور مالی معاملات کا مجموعہ ہوتا ہے — یہ ایک جمہوری حکومت کا کام ہے، نہ کہ ایک عسکری ادارے کا۔
✅ سیاستدان ڈیم کے خلاف کیوں ہوتے ہیں؟
یہاں مسئلہ صرف نااہلی کا نہیں بلکہ مفادات کا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں یا گروہ “صوبائی تعصب”، “ماحولیاتی خطرات” یا “عوامی حقوق” کے نام پر بڑے آبی منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں — حالانکہ وہی منصوبے قوم کے اجتماعی مفاد میں ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے عوام کو بھی شعوری طور پر تقسیم کیا گیا ہے۔
✅ پانی: خاموش مگر خوفناک جنگ
ہمارے ہاں پانی کے معاملے پر سنجیدہ مکالمہ ہی نہیں ہوتا۔ انڈیا اگر پانی بند کرے تو ہم قومی غیرت کے نام پر ہتھیار اٹھانے کی بات کرتے ہیں، لیکن جب وہی پانی ہم خود ضائع کرتے ہیں، تو کوئی آواز نہیں اٹھتی۔ یہ خاموش خودکشی نہیں تو اور کیا ہے؟
✅ ہر سال کی دہری موت: خشک سالی اور سیلاب
سردیوں میں نہروں میں پانی کم، فصلیں تباہ، کسان پریشان
گرمیوں میں بارشیں زیادہ، پانی جمع کرنے کی سہولت نہیں، سیلاب، گھر بہہ جاتے ہیں، لوگ مرتے ہیں
یہ دو انتہائیں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ بغیر پانی ذخیرہ کیے ترقی کا خواب ایک سراب ہے۔
پانی پر جو قوم سنجیدہ نہ ہو، اُس کا مستقبل صرف قحط اور بربادی ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاست، قوم پرستی اور صوبائیت سے اوپر اٹھ کر ہم پانی کو قومی مسئلہ سمجھیں۔ ہمیں ایسے لیڈرز، ایسے اقدامات اور ایسی عوامی بیداری کی ضرورت ہے جو ڈیم کو صرف کنکریٹ کی دیوار نہ سمجھے، بلکہ بقاء کا قلعہ جانے۔




