“غرقد کا درخت — ایک ایسا راز جو صدیوں سے چھپا ہوا ہے، اور آج پھر ہمارے سامنے آ گیا ہے!”
غرقد کا درخت، جسے عام طور پر یہودی درخت بھی کہا جاتا ہے، ایک خاص درخت ہے جو اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے تاریخی اور مذہبی حوالوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ درخت عام طور پر ایک سے پانچ میٹر تک لمبا ہوتا ہے اور اس کا تنا (ٹرنک) نہیں ہوتا۔
اسلامی احادیث میں بیان ہے کہ جب آخری عالمی جنگ ہوگی اور مسلمانوں کو یہودیوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا، تو یہودی جہاں بھی چھپیں گے، دوسرے پتھر، درخت اور چھپنے کی جگہیں مسلمانوں کو خبردار کر دیں گی۔ مگر غرقد کا درخت ایسا نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے اسے “یہودی درخت” کہا جاتا ہے۔
🔶 جنات کی رہائش؟
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ غرقد کے درخت جنات کا مسکن ہے، اور شاید یہ وہ جگہ ہے جہاں یہودی جنات بھی چھپے ہوئے ہوں، اسی لیے یہ درخت مسلمانوں کو خبردار نہیں کرے گا۔
🔶 سیاسی اور سماجی پہلو:
سن 1981 میں اقوام متحدہ نے اردن کو دس لاکھ غرقد کے پودے دیے، اور اردن میں ان پودوں کو توڑنے یا اکھیڑنے پر قید کی سزا مقرر کی گئی۔
حال ہی میں سعودی حکومت نے بھی مدینہ منورہ کے باغات میں یہ پودے لگائے، جو کہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ مدینہ پاک مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہے۔
یہودی طبقہ ان درختوں کو اپنی عسکری اور سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فلسطین، اسرائیل اور سعودی عرب میں کشیدگی اور جنگ کی صورت میں ان پودوں کو مورچوں کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
🔶 سوالات اور آگاہی کی ضرورت:
یہ سب کچھ ہمیں ایک اہم پیغام دیتا ہے:
مسلمان تھنک ٹینک کہاں ہیں؟
ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟
کیا قومیت، لسانیت اور عصبیت کی آگ ہمیں اپنی اصل دشمنوں سے اندھا کر رہی ہے؟
کیا نوجوانوں میں اسلام کی عزت اور شعور پیدا کرنے والا کوئی نظام موجود ہے؟
آج کا وقت فکر، حکمت عملی اور متحد ہو کر کام کرنے کا ہے۔ ہمیں اپنے ایمان اور عقیدے کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ آنے والی تباہی سے بچا جا سکے۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز بنیں جو نوجوانوں کو آگاہ کرے، انہیں متحد کرے اور اس خطرے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔




