او آئی سی اجلاس یا رسمی تماشہ؟ — غزہ جل رہا ہے، مسلم قیادت صرف بیانات دے رہی ہے
غزہ: اسرائیلی حملوں میں ہسپتال پر بمباری، 4 صحافیوں سمیت کم از کم 15 فلسطینی شہید
جب غزہ میں بچے شہید ہو رہے ہوں، ہسپتالوں پر بم برس رہے ہوں، اور میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ہو — تو مسلم دنیا کا صرف “تشویش کا اظہار” کسی المیہ سے کم نہیں۔
تجزیاتی تحریر:
جدہ میں ہونے والا او آئی سی کا اجلاس، جس میں پاکستانی نائب وزیراعظم سمیت درجنوں مسلم ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، ایک بار پھر صرف بیانات، قراردادوں اور تشویش کے اظہار تک محدود رہا۔ اس اجلاس کا مقصد بظاہر غزہ پر اسرائیلی مظالم کا جائزہ اور اس پر متحدہ ردعمل دینا تھا، لیکن حقیقت میں یہ اجلاس بھی سابقہ اجلاسوں کی طرح الفاظ کا قبرستان بن کر رہ گیا۔
اجلاس میں کسی ٹھوس، عملی قدم کی بات نہیں ہوئی:
نہ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا کوئی عندیہ؛
نہ اقتصادی بائیکاٹ پر غور؛
نہ ہی مشترکہ انسانی امداد یا میڈیکل کورڈور کے قیام پر کوئی عملی اعلان۔
عوامی ردعمل:
عالم اسلام کے عوام، خصوصاً نوجوان نسل اب ان رسمی اجلاسوں سے تنگ آ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے لکھا کہ:
“یہ صرف فوٹو سیشن ہوتے ہیں، اصل میں ان کے دل غزہ کے ساتھ نہیں، صرف زبانیں ہیں۔”
ایک صارف کا کہنا تھا:
“غزہ کی مائیں بچوں کی لاشیں اٹھا رہی ہیں، اور یہ حضرات ایئر کنڈیشنڈ ہال میں بیٹھ کر قراردادیں منظور کر رہے ہیں۔”
پاکستانی قیادت کا کردار:
پاکستانی نائب وزیراعظم کی شرکت بھی علامتی حیثیت سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ اگرچہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں آواز بلند کی ہے، لیکن عالمی سطح پر عملی اقدامات، مثلاً اقوام متحدہ میں جارح اسرائیلی ریاست کے خلاف مؤثر سفارتی مہم، یا مسلم دنیا میں رائے عامہ کی منظم قیادت، اب تک نظر نہیں آئی۔
سوالات جو اب اٹھنے چاہییں:
کیا او آئی سی واقعی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے، یا صرف شاہی تقاریر کا پلیٹ فارم؟
کیا اسرائیل صرف طاقت سے ہی سمجھتا ہے، اور ہم صرف “الفاظ” سے؟
کیا ہمیں غزہ کے شہداء سے آنکھیں چرانے کا حق ہے؟
غزہ کے بچوں کو دواؤں، غذا اور تحفظ کی ضرورت ہے — اقوام متحدہ یا او آئی سی کے بیانات کی نہیں۔
جب تک مسلم قیادت ان رسمی اجلاسوں سے نکل کر عملی فیصلے نہیں کرے گی، تب تک اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑے گا — اور غزہ کے لوگ، ہماری خاموشی کی قیمت اپنی جانوں سے چکاتے رہیں گے۔




