قصور سے میلسی تک ادھا پنجاب ڈوبا ہوا ہے، وزیراعلیٰ سیر سپاٹے پر — کسان اور غریب کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں!
قصور سے لے کر میلسی تک تقریباً 10 سے 11 اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، پنجاب کا ادھا حصہ پانی تلے ڈوبا ہوا ہے، مگر ہماری موجودہ حکومت کے اعلیٰ حکام کہیں اور کی سیاحت میں مصروف ہیں۔ ایسے موقع پر جب لوگ اپنے گھر بار، کھیت، اور روزگار کھو چکے ہیں، وزیراعلیٰ صاحبہ اور ان کا قریبی حلقہ سیر و تفریح میں مصروف ہے۔
یہ منظر نہ صرف دکھانے والا ہے بلکہ بہت پریشان کن بھی۔ ایک طرف لاکھوں لوگ پانی اور بیماریوں کے خطرے میں ہیں، تو دوسری طرف حکومتی عہدیدار اپنے عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ غریب کسان، جو ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، آج مدد کے لیے پکار رہے ہیں، مگر ان کی صدائیں نون لیگ کی حکومت کے کانوں تک نہیں پہنچتیں۔
سیاسی ناانصافی:
نون لیگ کی حکومت جب بھی آتی ہے، کسانوں اور غریبوں کی حالت خراب کر دیتی ہے۔ زرعی شعبے کو نقصان پہنچاتی ہے، کسانوں کے حقوق پامال کرتی ہے، اور سیلاب جیسے قدرتی آفات میں بھی ان کی مدد سے غافل رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے — جب ملک کو سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تب حکمران اپنی ذات کے مفادات میں مصروف ہوتے ہیں۔
عوامی غم و غصہ:
عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ اتنے بڑے سانحے پر حکومت صرف بیانات اور تصویریں بناتی ہے، اصل کام کرنے کی جگہ عیاشی میں مصروف ہے۔ ایک شہری نے کہا:
“بیچارے کسان اور غریب لوگ آج بھی بیسک سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سیلفیاں لے رہے ہیں!”
یہی وقت ہے کہ عوام اپنی آواز بلند کریں، اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلائیں۔ کسان، غریب اور متاثرہ لوگ صرف دعاؤں کے محتاج نہیں، انہیں فوری امداد، موثر منصوبہ بندی، اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے۔ ورنہ پنجاب کے لاکھوں افراد کی زندگیاں مزید تباہی کی طرف جائیں گی۔





