غزہ پر او آئی سی ہنگامی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات

“گریٹر اسرائیل کا تصور صرف ایک سیاسی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک بدمعاشانہ سوچ کی نمائندگی کرتا ہے” — او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا دو ٹوک پیغام!
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال پر ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر ان کی ملاقات سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ہوئی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے فلسطین اور بالخصوص غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو متحد ہو کر فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کے لیے ایک مؤثر اور عملی لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔

دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت

ملاقات کے دوران اسحاق ڈار اور فیصل بن فرحان کے درمیان پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے، تجارتی روابط کو فروغ دینے، اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اعادہ

اسحاق ڈار نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ان کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور “گریٹر اسرائیل” کا خواب پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، جسے روکنے کے لیے او آئی سی کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

سعودی وزیر خارجہ کا ردعمل

شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور اس مقصد کے لیے مسلم ممالک کے درمیان مشاورت اور تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم ممالک کی جانب سے بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اب امت مسلمہ عالمی ضمیر کو جگانے اور فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط موقف اپنانے کے لیے تیار ہے۔ اسحاق ڈار اور فیصل بن فرحان کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو نہ صرف فلسطینی کاز بلکہ پاک-سعودی تعلقات کے لیے بھی حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں