غزہ: اسرائیلی بمباری میں انڈپینڈنٹ عربیہ کی صحافی مریم ابو دقہ جاں بحق!
غزہ: اسرائیلی حملوں میں ہسپتال پر بمباری، 4 صحافیوں سمیت کم از کم 15 فلسطینی شہید
غزہ پر جاری اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران معروف صحافیہ اور انڈپینڈنٹ عربیہ کی نمائندہ مریم ابو دقہ شہید ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وہ گزشتہ کئی دنوں سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی براہِ راست رپورٹنگ کر رہی تھیں اور مقامی و بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کی آواز بننے کی کوشش کر رہی تھیں۔
مریم ابو دقہ ایک باہمت، دلیر اور پیشہ ور صحافی کے طور پر جانی جاتی تھیں، جنہوں نے جنگ زدہ حالات میں بھی سچ اور حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کا عزم ترک نہیں کیا۔ ان کی شہادت نہ صرف صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی ہے کہ غزہ میں آزادیٔ اظہار کس حد تک خطرے میں ہے۔
اسرائیلی حملے، صحافیوں کو نشانہ؟
مریم کی شہادت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں صحافیوں پر حملوں میں تیزی آ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، حالیہ جنگ کے آغاز سے اب تک درجنوں فلسطینی صحافی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بیشتر ایسے تھے جو ملبوسات یا شناختی جیکٹس کے ذریعے واضح طور پر پریس کے نمائندے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا مطالبہ کر چکی ہیں کہ صحافیوں کو جنگی اہداف بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، اور ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ عربیہ اور صحافتی حلقوں کا ردعمل
انڈپینڈنٹ عربیہ نے مریم ابو دقہ کی شہادت پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، مریم ایک انتہائی باصلاحیت اور فرض شناس رپورٹر تھیں، جو ہر صورت میں سچ سامنے لانے کی کوشش کرتی تھیں۔
صحافتی تنظیموں اور آزادیٔ اظہار کے عالمی اداروں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مریم ابو دقہ کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، سچ کی آواز کو دبانے سے بھی لڑی جاتی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو صحافی سچ کے لیے جان دیتے ہیں، وہ صرف افراد نہیں، تحریک بن جاتے ہیں۔ مریم کی قربانی فلسطینی عوام کی جدوجہد اور آزادیٔ صحافت کے لیے ایک روشن مثال رہے گی۔




