یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے 27 ارب روپے کا مالی پیکیج تیار — ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم پر 15 سے 18 ارب مختص
حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے خسارے اور اصلاحات سے نمٹنے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا — 27 ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری، ہزاروں ملازمین کے لیے VSS اسکیم کا اعلان!
تفصیلی رپورٹ:
وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان (USC) کو مالی بحران سے نکالنے اور اس کی تنظیمِ نو کے لیے 27 ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں سب سے اہم حصہ رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (VSS – Voluntary Separation Scheme) کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت 15 سے 18 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
VSS اسکیم کیا ہے؟
رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کا مقصد کارپوریشن میں زائد، غیر فعال یا زائد المیعاد سروس رکھنے والے ملازمین کو مالی پیکج دے کر ریٹائر کرنا ہے تاکہ ادارے کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت ہزاروں ملازمین کو پُرکشش مالی مراعات دے کر ادارے سے علیحدہ کیا جائے گا۔
کیوں لیا گیا یہ فیصلہ؟
یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن گزشتہ کئی سالوں سے شدید مالی خسارے اور ناقص کارکردگی کا شکار ہے۔
اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی
انتظامی بدانتظامی
کرپشن اور غیر شفاف خریداری
غیر تربیت یافتہ عملہ
ان تمام مسائل کے باعث حکومت کو ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑ رہی ہے، جس سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔
پیکیج کی تقسیم:
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 27 ارب روپے میں سے:
15 سے 18 ارب روپے: VSS اسکیم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
باقی رقم: ادارے کی تنظیمِ نو، انفراسٹرکچر اپ گریڈ، آٹومیشن، اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اصلاحات کا مقصد:
حکومت کا مقصد یوٹیلٹی اسٹورز کو ایک مؤثر، منافع بخش اور عوام دوست ادارہ بنانا ہے، جہاں کم قیمت پر معیاری اشیائے خورد و نوش دستیاب ہوں۔ اس پیکیج کے ذریعے نہ صرف ملازمین کی تعداد کم کی جائے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور نئے نظام متعارف کرا کر کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
عوامی نقطہ نظر:
اگرچہ یہ قدم انتظامی لحاظ سے ضروری سمجھا جا رہا ہے، مگر ملازمین اور مزدور یونینز نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کچھ حلقے اسے ملازمتوں کے خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دے رہے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ VSS کے بعد بہت سے اسٹورز بند کر دیے جائیں گے یا نجی شعبے کو دے دیے جائیں گے۔
مزدور یونینز حکومت سے VSS کے تحت دی جانے والی رقوم، شرائط اور ملازمین کے متبادل روزگار کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
کیا یہ قدم مؤثر ہوگا؟
یہ فیصلہ بظاہر اصلاحات کی جانب ایک بڑا قدم ہے، مگر اس کے اثرات کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ:
VSS کتنی شفافیت سے نافذ کی جاتی ہے؟
باقی پیکیج کس حد تک ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے پر خرچ ہوتا ہے؟
کیا اسٹورز کی رسد بہتر ہوتی ہے یا صورتحال مزید بگڑتی ہے؟
یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 27 ارب روپے کا مالی پیکیج حکومت کی جانب سے ایک سنجیدہ قدم ہے، جو اگر درست طریقے سے نافذ ہوا تو ادارے کو بحال کر سکتا ہے۔ تاہم، اس کے سماجی، معاشی اور سیاسی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور بے روزگاری پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔




