“میں وفاقی وزیر ہوں، مگر مجھے نہیں پتا 4 لاکھ ڈالر کہاں گئے” — مصدق ملک کا حیران کن انکشاف

پاکستان کے وفاقی وزیر خود پریشان ہیں کہ پلاسٹک ری سائیکلنگ کے لیے مختص 4 لاکھ ڈالر کہاں غائب ہو گئے — “دو ہفتے سے ڈھونڈ رہا ہوں، لیکن کسی کے پاس جواب نہیں”۔

اسلام آباد: وزارت میں پیسہ ہے، جواب نہیں

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، سینیٹر مصدق ملک نے ایک تقریب میں حیران کن انکشاف کیا کہ ان کی وزارت کو پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ اور ری سائیکلنگ کے لیے چار لاکھ امریکی ڈالر ملے تھے، لیکن اب کسی کو معلوم نہیں یہ رقم کہاں گئی، کس مد میں خرچ ہوئی، یا اس سے کیا حاصل ہوا؟

انہوں نے کہا:

“میں دو ہفتے سے کوشش کر رہا ہوں کہ یہ پیسے کہاں گئے؟ ان کے نتائج کیا نکلے؟ کس پر عمل ہوا؟”

یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب ملک ماحولیاتی آلودگی، پلاسٹک ویسٹ، اور غیر شفاف حکومتی نظام جیسے مسائل کا شکار ہے۔

“پالیسی کا پوچھتے ہیں تو کمپیوٹر اور کرسی کی بات کرتے ہیں”

وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ جب وہ عملے سے پالیسی یا نتائج کا پوچھتے ہیں، تو ٹھوس ڈیٹا، پروجیکٹ رپورٹ یا امپیکٹ انڈیکیٹرز دینے کے بجائے انہیں کمپیوٹرز، کرسیوں، اور دفتری اخراجات کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔

یہ ایک شدید بیوروکریٹک غیر سنجیدگی کی نشاندہی ہے، جہاں شفافیت، جوابدہی اور نتیجہ خیزی کا فقدان نظر آتا ہے۔

وزیر کی بے بسی یا احتساب کی شروعات؟

مصدق ملک کا کہنا تھا:

“میں اس کے پیچھے پڑ چکا ہوں، اور ظاہر ہے، میں اس کا پتہ لگا کر رہوں گا۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اس قسم کی فنڈز کی گمشدگی یا غیر شفاف استعمال کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے اور اس عمل کو ہر حال میں روکا جائے گا۔

یہ بیان ایک طرف تو ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بھی اپنی وزارتوں میں شفافیت اور کنٹرول کے حوالے سے بے بس ہیں۔

ماحولیاتی بحران اور کرپشن کا ملاپ

پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی، خصوصاً پلاسٹک ویسٹ، ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ بڑے شہروں میں روزانہ ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک کچرا پیدا ہو رہا ہے، جو:

آبی ذخائر کو آلودہ کرتا ہے

انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بڑھاتا ہے

ایسے میں 4 لاکھ ڈالر جیسی خطیر رقم کا غائب ہو جانا، وہ بھی کسی وضاحت کے بغیر، نہ صرف ایک ماحولیاتی جرم بلکہ عوامی اعتماد کی توہین بھی ہے۔

سوالات جو اب اٹھ رہے ہیں:

یہ فنڈز کس ادارے کے ذریعے جاری ہوئے؟

اس رقم کا منصوبہ کیا تھا؟

کیا کوئی آڈٹ ہوا؟

وزارت میں کون ذمہ دار ہے؟

کیا یہ پہلا واقعہ ہے یا معمول؟

مصدق ملک کا بیان ان سیاستدانوں میں سے ایک نایاب مثال ہے جو اپنے ہی نظام پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ:

کیا محض بیان کافی ہے؟ یا اب ایک باقاعدہ تحقیقات، شفاف آڈٹ، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی ہوگی؟

ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم ترین شعبے میں فنڈز کا غائب ہونا صرف کرپشن نہیں، بلکہ مستقبل کی نسلوں کے ساتھ بے وفائی ہے۔
قوم اب صرف وعدوں نہیں، نتائج کی منتظر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں