“سیلاب تو گزر جاتا ہے، مگر جو گھر پیچھے رہ جاتے ہیں… وہ کبھی پہلے جیسے نہیں رہتے!”
**تحریر: سیلاب کے بعد گھر کیوں قابلِ رہائش نہیں رہتے؟**
سیلاب صرف پانی کا بہاؤ نہیں ہوتا، یہ ایک ایسا المناک واقعہ ہے جو انسانوں کی زندگی، ان کے روزگار اور ان کے **گھروں** کو جڑوں سے ہلا دیتا ہے۔ جن گھروں میں کبھی ہنسی، خوشی، اور سکون کی فضا ہوا کرتی تھی، وہ سیلاب گزر جانے کے بعد **ویرانی، نمی، بیماری اور خطرات کی علامت** بن جاتے ہیں۔
#### 🧱 **ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان**
سیلابی پانی جب گھروں میں داخل ہوتا ہے تو دیواریں، فرش اور چھتیں شدید متاثر ہوتی ہیں۔
* کچی اینٹوں یا مٹی سے بنے گھر مکمل طور پر **منہدم** ہو جاتے ہیں۔
* پختہ گھروں کی **دیواروں میں نمی** سرایت کر جاتی ہے جو وقت کے ساتھ کمزور ہو کر کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
* سیمنٹ، لوہے اور لکڑی کا کام پانی کی وجہ سے **زنگ آلود یا سڑ** جاتا ہے، جس سے گھر غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
#### 💧 **نمی اور بدبو کا مستقل قیام**
سیلابی پانی کے بعد اگر مکمل صفائی اور خشک کرنے کا بندوبست نہ ہو تو گھروں میں
* **بدبو**
* **پھپھوندی (fungus)**
* اور **مچھروں** کی بھرمار ہو جاتی ہے۔
ایسے ماحول میں رہنا بچوں، بزرگوں، اور بیمار افراد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
#### ⚡ **بجلی اور گیس کا نظام تباہ**
زیادہ تر گھروں میں سیلاب کے بعد
* بجلی کے تار **ننگے** ہو جاتے ہیں، جو کرنٹ یا آگ لگنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
* گیس کے پائپ لائنز میں **لیکج** یا بندش ہو جاتی ہے، جو دھماکوں یا گیس پھٹنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
#### 🦠 **صحت کا بحران**
گھروں میں موجود **آلودہ پانی، کیچڑ، اور گندگی** مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے جیسے کہ:
* ڈائریا
* ملیریا
* ڈینگی
* جلدی امراض
یہ بیماریاں گھروں کو صرف ناقابلِ رہائش نہیں بلکہ **خطرناک زون** میں بدل دیتی ہیں۔
#### 👨👩👧👦 **نفسیاتی اثرات**
گھر صرف دیواروں کا نام نہیں ہوتا بلکہ جذبات، یادوں اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ جب سیلاب سب کچھ بہا لے جاتا ہے تو لوگ
* ذہنی دباؤ
* افسردگی
* اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ اثرات نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں اگر انہیں مناسب مدد نہ دی جائے۔
—
### **حل کیا ہے؟**
حکومت، این جی اوز، اور عوامی شعور کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ:
1. سیلاب کے بعد گھروں کی **سروے اور اسسمنٹ** کی جائے۔
2. ناقابلِ رہائش گھروں کو **مکمل طور پر خالی اور دوبارہ تعمیر** کیا جائے۔
3. عوام کو گھروں کی **ساخت، نکاسی آب، اور احتیاطی تدابیر** کے بارے میں تربیت دی جائے۔
4. **عارضی شیلٹر** اور **ریلیف کیمپ** صرف وقتی حل ہیں، اصل مسئلہ تب حل ہوگا جب ہر خاندان کو محفوظ چھت مہیا کی جائے گی۔
سیلاب کے بعد زندگی نئے سرے سے شروع کرنی پڑتی ہے۔ گھر، جو ایک محفوظ پناہ گاہ ہوتا ہے، جب وہی خطرے کی علامت بن جائے تو متاثرہ لوگوں کی تکلیف صرف جسمانی نہیں، بلکہ جذباتی، نفسیاتی اور معاشرتی ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی “ریلیف” دینا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف پانی کے اترنے کا انتظار نہیں کرنا، بلکہ گھروں کو **دوبارہ جینے کے قابل** بنانا ہوگا۔




