“گرمیوں میں ڈوبتے ہو، سردیوں میں ترستے ہو، اور سالوں سے صرف شور مچاتے ہو — مگر ڈیم نہیں بناتے!”
“سیلاب تو گزر جاتا ہے، مگر جو گھر پیچھے رہ جاتے ہیں… وہ کبھی پہلے جیسے نہیں رہتے!”
**”گرمیوں میں ڈوبتے ہو، سردیوں میں ترستے ہو، اور سالوں سے صرف شور مچاتے ہو — مگر ڈیم نہیں بناتے!”*
### **تحریر: پانی کا سیاسی تماشا، عوام کا حقیقی عذاب**
جب بھی گرمیوں میں دریا بپھرتے ہیں، پورے ملک میں ایک شور مچ جاتا ہے:
**”انڈیا نے پانی چھوڑ دیا!”**
اور جب سردیوں میں فصلوں کو پانی نہیں ملتا، زمینیں بنجر ہونے لگتی ہیں، تو پھر آواز آتی ہے:
**”انڈیا نے پانی روک لیا!”**
مگر سوال یہ ہے:
**ہم نے خود کیا کیا؟**
کیا ہم نے کوئی **نیا ڈیم** بنایا؟
کیا ہم نے پانی کو **محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی** کی؟
کیا ہم نے اپنے بچوں کے لیے پانی کا کوئی مستقبل محفوظ کیا؟
#### ❌ **نہیں! ہم نے صرف شور کیا۔**
ہم صرف بیانات دیتے ہیں۔
ہم صرف جلسے کرتے ہیں۔
ہم صرف جذباتی نعرے لگاتے ہیں۔
مگر جب اصل کام یعنی **ڈیم بنانا**، **واٹر منیجمنٹ سسٹم** بنانا، یا **موسمی تبدیلی کے خلاف تیاری** کی بات آتی ہے تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
—
### 🇮🇳 **انڈیا نے کیا کیا؟**
انڈیا نے پاکستان کے خلاف کوئی نیا ہتھیار نہیں بنایا — اس نے صرف **ڈیم بنائے۔**
* پانی کو ذخیرہ کیا
* سائنسی بنیادوں پر مینجمنٹ سسٹم بنایا
* اور اپنے کسانوں کو وقت پر پانی دیا
ہم نے کیا کیا؟
* کالا باغ ڈیم پر سیاست
* ہر منصوبے کو صوبائی تعصب کی نذر
* اور ہر سیلاب و خشک سالی پر صرف بیان بازی
—
### 💧 **پانی کا مسئلہ، اب زندہ رہنے کا مسئلہ ہے**
یہ صرف زراعت، صنعت یا بجلی کا مسئلہ نہیں —
یہ **بقاء کا مسئلہ** ہے!
* پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے
* عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ ہم جلد **پانی کی شدید قلت** والے ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں
* ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے ساتھ یہ خطرہ کئی گنا بڑھ چکا ہے
—
### 🏗️ **اب نہیں جاگے تو بہت دیر ہو جائے گی**
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم:
1. **ڈیمز کو سیاسی نہیں، قومی مسئلہ سمجھیں**
2. **وفاق اور صوبے مل کر طویل مدتی منصوبہ بندی کریں**
3. **پانی کے ذخیرے، تقسیم، اور ضیاع کو روکنے پر ایک نیشنل ایکشن پلان بنائیں**
4. عوام میں **پانی کے ضیاع کے خلاف شعور** بیدار کریں
—
### **اختتامیہ:**
جب سیلاب آتا ہے، ہم چیختے ہیں۔
جب پانی نہیں ملتا، ہم روتے ہیں۔
جب فصلیں برباد ہوتی ہیں، ہم احتجاج کرتے ہیں۔
مگر جب ڈیم بنانے کی بات آتی ہے — ہم **خاموش** ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیں، پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں — اور صرف بیانات سے پانی نہیں آتا۔
**اب اگر ہم نے فیصلے نہ کیے، تو آنے والی نسلیں صرف پیاسے نہیں، ہم پر لعنت بھیجتی رہیں گی۔*
“سیلاب تو گزر جاتا ہے، مگر جو گھر پیچھے رہ جاتے ہیں… وہ کبھی پہلے جیسے نہیں رہتے!”




