“سیلاب صرف زمینیں نہیں، انسانوں کی زندگیاں بھی بہا لے جاتا ہے۔”
جب قدرت کا قہر برستا ہے تو سب کچھ تنکوں کی طرح بہہ جاتا ہے۔ 2025 کے شدید سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو تہ و بالا کر دیا۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں کی چھتوں تک آ گیا، اور لوگوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ساری رات جاگ کر گزاری۔
سکینہ بی بی کی کہانی – ایک خوفناک رات کا سامنا
وزیرآباد کی سکینہ بی بی نے بتایا:
’’قیامت کی رات تھی جو جاگ کر گزاری، تین، چار فٹ لمبے سانپ قریب سے گزرے، ہم یہی سمجھے کہ شاید موت قریب آگئی اور ہماری قسمت میں ایسے ہی مرنا لکھا ہے۔‘‘
سیلابی پانی ان کے گھر میں داخل ہو چکا تھا۔ روشنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا، صرف پانی کی آواز اور اندھیرے میں حرکت کرتے سانپ۔ بچوں کو سینے سے لگائے، انہوں نے پوری رات دعاؤں میں گزاری۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسی رات کسی دشمن کو بھی نہ ملے۔
غلام رسول کی بربادی – مویشیوں کا نقصان اور آنکھوں کے سامنے سب کچھ بہہ جانا
سیالکوٹ کے غلام رسول کی آنکھوں میں آنسو تھے جب وہ بولے:
’’دریا کو ظالم ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ پانی ہمارے قریب سے گزر رہا تھا اور ہم بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔ سیلابی ریلا میری تمام 7 بھینسیں اور 11 بچھڑے بہا لے گیا۔‘‘
ان کا روزگار انہی مویشیوں سے جڑا تھا۔ اب نہ کھانے کو کچھ ہے، نہ کمانے کا ذریعہ۔ بچوں کو پیٹ بھر کر کھلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
پسماندہ علاقوں کی تباہی – حکومت سے امداد کی اپیل
ان جیسے سینکڑوں خاندان ہیں جو اب کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گاؤں کے گاؤں اجڑ گئے ہیں، اسکول اور اسپتال پانی میں بہہ گئے۔ مقامی لوگ حکومتی امداد کے منتظر ہیں لیکن ابھی تک مدد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانوں کا سب کچھ چھین لینے والی آزمائش ہے۔ سکینہ بی بی اور غلام رسول جیسے لوگ اس آفت کا سامنا کر کے زندہ تو بچ گئے، مگر زندگی کے زخم ابھی بھرے نہیں۔ ان کہانیوں کو سن کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ قدرت کے سامنے انسان کس قدر بے بس ہے — اور اس بے بسی کو کم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔




