پنجاب کے سیلابی علاقوں کی حقیقت اور پانی کے انتظام کا حل
پنجاب کے جن علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں، وہ مکمل ہموار میدانی علاقے ہیں۔ ایسے علاقوں میں ڈیم بنانا ممکن ہی نہیں اور اگر واقعی ڈیم سے مسائل حل ہوتے تو مغربی طاقتیں یہاں سب سے پہلے ڈیم بناتیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں دنیا کا سب سے پیچیدہ اور وسیع نہری نظام ہے جو ان علاقوں کی بقا کی ضمانت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک جدید اور مؤثر آبی نظام بنائیں، جس میں نیڈر لینڈز کی طرح پانی کے ذخائر، بیراج، نئے چینلز، اور بند ہوں، تاکہ سیلاب کے خطرات سے بہتر نمٹا جا سکے۔
نیڈر لینڈز میں بھی ہم سے زیادہ سیلاب آتے تھے، لیکن انہوں نے اپنا نظام ازسر نو ترتیب دے کر صدیوں پر محیط سیلابی مشکلات کو تقریباً ختم کر دیا۔ یہی ماڈل پنجاب کے لیے بھی ضروری ہے۔
راوی اور ستلج میں پانی نہ آنے کی وجہ سے ہم پچھلے عرصے میں لاپرواہ ہو گئے تھے، مگر اب سمجھ آ رہی ہے کہ ان دریاوں سے نئی نہریں نکالنا اور نئے بند تعمیر کرنا کتنا ضروری ہے۔ اسی طرح چناب کے اوپر بھی بیراج بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیلابی پانی کو منظم طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔
لیکن ایک حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اتنے بڑے پانی کو صرف تب روکا جا سکتا ہے جب بھارت بھی تعاون کرے۔ ورنہ نیچے بہتے پانی اور بھارت کی آبی جارحیت کے سامنے ہم ہمیشہ کمزور رہیں گے۔
آخر میں، جو لوگ ڈیم بنانے کا چورن بیچ رہے ہیں، انہیں ایک بار پھر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو پنجاب کے یہ سیلابی علاقے ہیں، وہاں بڑے ڈیم بنانا ممکن نہیں۔ اصل ضرورت بیراجوں اور نہروں کی ہے۔
حقائق کو گڈ مڈ کر کے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے، اور پانی کے مسئلے کا حل سائنسی اور حقیقت پسندانہ ہو۔




