بھارت جنگ ہار گیا مگر پانی کی جنگ جیت رہا ہے: پاکستان کا سیلابی بحران اور ہماری ذمہ داری
پاکستان حالیہ سیلاب میں ڈوب چکا ہے، لیکن یہ صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ کئی سالوں کی ناکامیوں اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے۔
بھارت کے ساتھ آبی تنازعات تو ایک بڑا مسئلہ ہیں، مگر کیا ہم خود بھی اپنی زمین، پانی اور جنگلات کے تحفظ میں کمی نہیں کر رہے؟
1. درختوں کا کٹاؤ
جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوئی بلکہ سیلابی پانی کو روکنے کی قدرتی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔
درختوں کی کمی سے پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا اور سڑکوں، گھروں، کھیتوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔
2. ڈیم نہ بنانا
پاکستان نے پانی کے ذخائر بنانے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا۔
ڈیمز اور بیراج نہ بننے کی وجہ سے بارش اور ندیوں کا پانی ضائع ہو رہا ہے، جو سیلابی تباہی میں بدل جاتا ہے۔
3. دریا کے پیٹ میں رہائشی اور کمرشل کالونیاں
دریا کے کنارے غیر قانونی آبادیاں، کمرشل پلاٹس اور کالونیاں بنانے سے نہ صرف پانی کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ سیلابی پانی کا دائرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
یہی آبادیاں سیلاب کی شدت کو بڑھاتی ہیں اور نقصانات کا باعث بنتی ہیں۔
کیا یہ صرف قدرتی آفت ہے؟ یا بھارتی آبی جارحیت؟ یا ہماری بھی غلطیاں ہیں؟
یہ سب عوامل مل کر پاکستان کو اس بحران میں لے آئے ہیں۔
بھارت کا پانی روکنا اور دریاؤں کا بہاؤ کم کرنا بھی ایک حقیقت ہے، مگر ہماری اپنی بے احتیاطی اور ناقص منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
حل کیا ہے؟
درخت لگانا اور جنگلات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جدید اور مؤثر پانی کے ذخائر، بیراج اور نہری نظام کی تعمیر۔
دریا کے کنارے غیر قانونی آبادیاں ختم کرنا اور محفوظ زون بنانا۔
پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے سخت سفارتی اور قانونی اقدامات۔




