“پہلے حکومت نے غیرقانونی تعمیرات ہونے دیں، اب عوام کو بےدخل کرکے معاوضہ بھی نہیں دے رہی — کیا یہی انصاف ہے؟”
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے حالیہ بیان کے مطابق:
“غیرقانونی تعمیرات کے گرنے پر معاوضہ نہیں مل سکتا، جو لوگ آبی گزرگاہوں میں رہتے ہیں انہیں نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔”
یہ بیان بظاہر قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے، لیکن اس کا عملی اثر ہزاروں عام شہریوں پر پڑتا ہے جو ان علاقوں میں دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں — اکثر نادانستہ طور پر یا مجبوری کے تحت۔
❓سوالات جو اس فیصلے کو گھیرتے ہیں:
کیا حکومت نے پہلے ان تعمیرات کو روکا؟
اگر یہ جگہیں “غیرقانونی” تھیں، تو کیا بلدیاتی اداروں، لینڈ ڈویلپرز اور دیگر سرکاری اداروں نے یہ تعمیرات رکوانے کی سنجیدہ کوشش کی؟
کیا رہائشیوں کو پہلے خبردار کیا گیا؟
اکثر لوگوں کو ان جگہوں کی قانونی حیثیت کا علم نہیں ہوتا۔ زمین بیچنے والے، سرکاری اہلکار، یا ہاؤسنگ سوسائٹیز خود گمراہ کرتی ہیں۔
کیا ان لوگوں کو متبادل رہائش دی گئی؟
اگر حکومت ان کو بےدخل کر رہی ہے، تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متبادل فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
💔 جن کے گھر گر چکے، وہ کیا کریں؟
ان لوگوں کے لیے “معاوضہ ممکن نہیں” کہنا ظلم ہے، کیونکہ:
وہ خود سے وہاں نہیں آئے، انہیں “سسٹم” نے وہاں لا کر بسایا۔
اکثر نے ساری زندگی کی جمع پونجی لگا کر گھر بنایا تھا۔
ان کے پاس نہ متبادل ہے، نہ قانونی مدد، نہ آواز۔
⚖️ کیا یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے؟
ہاں، اگر:
بغیر متبادل دئیے گھروں کو گرایا جائے۔
ماضی کی غلطیوں کی سزا صرف عام عوام کو دی جائے۔
بااثر افراد کی تعمیرات محفوظ رہیں اور غریبوں کو ہٹایا جائے۔
نہیں، اگر:
سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔
لوگوں کو پہلے سے آگاہ کیا جائے اور وقت دیا جائے۔
انسانی بنیادوں پر معاوضہ یا متبادل رہائش دی جائے۔
قانون کی پاسداری ضروری ہے، لیکن قانون کو انسانیت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف غیرقانونی تعمیرات گرانا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جنہیں اس نظام نے وہاں بسایا، ان کی بحالی کا بندوبست بھی کرے۔



