دریائے چناب، ستلج اور راوی میں مسلسل سیلابی کیفیت — پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا
تحریر: 28 اگست 2025
مقام: لاہور، پنجاب
پنجاب بھر میں ایک بار پھر قدرتی آفت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی اس وقت شدید سیلابی کیفیت کا شکار ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں خطرے کی سطح انتہائی بلند ہو چکی ہے۔ محکمہ موسمیات اور آبپاشی کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ بارشوں کا سلسلہ برقرار ہے اور بالائی علاقوں سے آنے والا پانی نشیبی اضلاع میں تباہی پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
🌊 پانی کا بہاؤ اور موجودہ صورت حال:
1. دریائے چناب
ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پانی کا بہاؤ خطرناک حدوں کو عبور کر چکا ہے۔ ضلع سیالکوٹ، نارووال، اور گوجرانوالہ کے کئی دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، اور مزید علاقوں میں سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
2. دریائے ستلج
گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ستلج میں پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ قصور، پاکپتن اور اوکارہ کے کئی نشیبی علاقے پانی کی زد میں آ چکے ہیں۔ حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مزید بارش ہوئی تو بند ٹوٹنے کا امکان ہے۔
3. دریائے راوی
شاہدرہ، لاہور کے نواحی علاقوں میں دریائے راوی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ اگرچہ فی الحال درمیانے درجے کا سیلاب ہے، لیکن موجودہ بارشوں کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے یہ بہاؤ بھی خطرناک سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ لاہور، شیخوپورہ، اور فیروز والا کے نواحی علاقے الرٹ پر ہیں۔
🛑 متاثرہ علاقوں میں صورتحال:
ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں
درجنوں دیہات مکمل یا جزوی طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں
کھڑی فصلیں، مال مویشی اور بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے
اسکول اور مساجد عارضی کیمپوں میں تبدیل کیے جا رہے ہیں
🧑💼 حکومتی اقدامات:
صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، اور فوج، ریسکیو 1122، اور سول ڈیفنس کو فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ خیمہ بستیاں قائم کی جا رہی ہیں، اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے موبائل ہسپتال روانہ کیے جا رہے ہیں۔
لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں — کئی علاقوں میں متاثرین تاحال سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔ پانی میں گھرے افراد کشتیوں اور پرائیویٹ ذرائع سے محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔
📢 عوام کے لیے اہم ہدایات:
دریاؤں کے قریب یا نشیبی علاقوں میں مقیم افراد فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں
گھروں میں بجلی، گیس اور دیگر خطرناک سامان بند کر کے نکلیں
پانی کے ساتھ بہہ جانے والے راستوں سے گریز کریں
بچوں، خواتین اور بزرگوں کو خصوصی توجہ دیں
حکومت یا ریسکیو اداروں کی تصدیق شدہ ہدایات پر عمل کریں، افواہوں سے بچیں
❓ سوالات جو حکومت سے کیے جا رہے ہیں:
کیا بروقت وارننگ جاری کی گئی تھی؟
کیا حکومت کے پاس متاثرین کے لیے متبادل انتظامات موجود ہیں؟
کیا آئندہ بارشوں کی پیشگوئی کے مطابق حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں؟
پاکستان میں ہر سال مون سون کے دوران سیلاب کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود متاثرہ افراد کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف شدید بارشیں، دریاؤں کا طغیانی اختیار کرنا، اور دوسری طرف کمزور انفراسٹرکچر، ناقص منصوبہ بندی اور سست رفتار امداد — یہ سب عوامل انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔




