“سیلاب آئے یا آفت، مرے عوام — اور سیاستدانوں کی دبئی میں نئی کوٹھیاں بن گئیں!”
پاکستان میں ایک دردناک روایت جڑیں پکڑ چکی ہے
— جہاں بھی قدرتی آفات آتی ہیں، وہاں سیاستدانوں کی دولت میں حیران کن اضافہ ہو جاتا ہے۔ عوام کے آنسو، ان کے ڈوبتے گھر، بھوکے بچے اور کھنڈر بنتی زندگیاں تو خبروں کی زینت بنتی ہیں، مگر پسِ پردہ ایک اور کہانی جنم لیتی ہے — امداد کی سیاست اور لوٹ مار کا بازار۔
🌊 جب سیلاب آتا ہے:
لوگ گھر، فصلیں، مویشی اور زندگی کی جمع پونجی کھو بیٹھتے ہیں
ملک بھر میں ہمدردی کی لہر دوڑتی ہے
بیرونِ ملک سے امداد، خوراک، ادویات اور پیسہ آتا ہے
حکومتیں “ایمرجنسی” لگا کر امدادی فنڈز کا کنٹرول سنبھالتی ہیں
🏗️ پھر کیا ہوتا ہے؟
غیر شفاف ٹینڈر جاری کیے جاتے ہیں
جعلی بل، جعلی پروجیکٹ، اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازا جاتا ہے
کیمپوں میں بیٹھے لوگ روٹی کو ترستے ہیں، اور حکمران لندن، دبئی اور نیویارک میں جائیدادیں خرید لیتے ہیں
عوام کو امداد کے نام پر صرف تصویریں اور خالی وعدے ملتے ہیں
📉 عوام کے ساتھ دہرے ظلم:
ایک طرف قدرتی آفت
دوسری طرف حکومتی بدعنوانی
عوام مر بھی جاتے ہیں تو نئی کرپشن کا بہانہ بن جاتے ہیں
📊 چند سوالات جو ہر پاکستانی کو سوچنے چاہییں:
ہر سال اربوں کی امداد آتی ہے، وہ جاتی کہاں ہے؟
کیا آپ کو یا آپ کے کسی جاننے والے کو وہ امداد کبھی ملی؟
کیوں ہر سیلاب کے بعد وہی تصاویر، وہی وعدے، وہی پریس کانفرنسیں دہرائی جاتی ہیں؟
اور کیوں ہر الیکشن کے بعد انہی سیاستدانوں کی بیرونِ ملک جائیدادوں میں اضافہ ہوتا ہے؟
💡 حل:
امدادی فنڈز کے لیے آزاد و شفاف آڈٹ سسٹم بنایا جائے
ہر ایک روپے کا حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے
سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے اثاثے ہر سال عوامی ویب سائٹ پر ظاہر کیے جائیں
اگر کسی بھی آفت کے دوران کرپشن ثابت ہو جائے، تو فوری نااہلی اور سزا دی جائے
جب تک آفات عوام کے لیے موت اور سیاستدانوں کے لیے موقع بن کر آتی رہیں گی، تب تک اس ملک میں نہ ترقی ممکن ہے، نہ انصاف۔ اب عوام کو صرف مدد مانگنی نہیں، احتساب بھی مانگنا ہو گا۔




