عدالت کا یہ فیصلہ امریکا کو تباہ کردے گا” — ٹیرف کیس پر ٹرمپ کا سخت ردعمل
مریکی عدالت کے ٹیرف سے متعلق فیصلے پر سابق صدر ٹرمپ برہم
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف (محصولات) سے متعلق اپیلز کورٹ کے حالیہ فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
“یہ فیصلہ امریکا کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔”
انہوں نے عدالت کے فیصلے کو “غلط اور جانبدار” قرار دیتے ہوئے امریکی عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
⚖️ ٹیرف پر اپیلز کورٹ کا فیصلہ — پس منظر
امریکی اپیلز کورٹ نے حال ہی میں ایک ایسے فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں نافذ کیے گئے مخصوص ٹیرف (خصوصاً چینی مصنوعات پر عائد کیے گئے اضافی محصولات) کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے تحت انہیں غیر آئینی یا قانون سے متصادم سمجھا گیا۔
یہ ٹیرف اقدامات ٹرمپ کی “امریکا فرسٹ” معاشی پالیسی کا اہم جزو تھے، جن کا مقصد درآمدات کم کرکے مقامی صنعتوں کو تحفظ دینا تھا۔
🔁 ٹرمپ کا دعویٰ — “یہ سب سیاسی ہے”
ٹرمپ نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ سیاسی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے دوبارہ انتخابی امکانات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
“یہ عدالت نہیں، سیاسی ایجنڈا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا کے محنت کش طبقے اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے خلاف سازش ہے۔”
— ڈونلڈ ٹرمپ
🇺🇸 سیاسی ماہرین کی رائے — معیشت، سیاست اور عدلیہ کا ٹکراؤ
ماہرین کے مطابق، عدالت کا فیصلہ قانونی پہلوؤں پر مبنی ہے، لیکن ٹرمپ اس فیصلے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا کر “مظلومیت” کا بیانیہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ 2024 کے بعد ایک بار پھر صدارت کی دوڑ میں ہیں اور اپنی پرانی معاشی پالیسیوں کو بطور کامیاب ماڈل پیش کر رہے ہیں۔
🔚 ٹیرف کا قانونی فیصلہ یا سیاسی محاذ آرائی؟
ٹیرف سے متعلق عدالتی فیصلے نے امریکا کی معیشت، سیاست اور عدالتی نظام کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ٹرمپ کے جارحانہ ردعمل نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکی سیاست میں عدلیہ کے فیصلے صرف قانونی معاملہ نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔



