ای او بی آئی پنشنرز کے لیے بڑی خوشخبری: وفاقی کابینہ نے پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دے دی
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ایک اہم اور خوش آئند فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن) کے پنشنرز کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، پنشنرز کو یکم ستمبر 2025 سے اضافی رقم دی جائے گی، جس سے ان کی مالی حالت میں واضح بہتری آئے گی۔
15 فیصد پنشن اضافہ: یکم ستمبر سے اطلاق
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق، ای او بی آئی کے پنشنرز کو یکم ستمبر 2025 سے اپنے ماہانہ پنشن میں 15 فیصد اضافی رقم ملے گی۔ اس فیصلے کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں پنشنرز کو معاشی تحفظ فراہم کرنا اور ان کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس اضافے سے نہ صرف پنشنرز کو فوری مالی مدد ملے گی بلکہ ان کے معیار زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔
طویل سروس پنشنرز کو 30,000 روپے ماہانہ سے زائد پنشن ملے گی
ای او بی آئی کی پنشن میں اضافے کے بعد طویل سروس کرنے والے پنشنرز کے لیے ایک بڑا ریلیف سامنے آیا ہے۔ اب وہ 30,000 روپے ماہانہ سے زائد پنشن وصول کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر ان پنشنرز کے لیے اہم ہے جنہوں نے کئی دہائیوں تک کام کیا اور ان کی پنشن میں اضافے سے ان کی معیشتی حالت بہتر ہوگی۔ یہ اقدام حکومت کی طرف سے ریٹائرڈ ملازمین کے فلاح و بہبود کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ای او بی آئی پنشنرز کو بقایا جات سمیت ادائیگی کی جائے گی
حکومت نے اس بات کی بھی ضمانت دی ہے کہ ای او بی آئی پنشنرز کو بقایا جات سمیت اضافی رقم ادا کی جائے گی۔ یعنی اگر پنشنرز کو ماضی میں کسی وجہ سے پنشن میں کمی یا تاخیر کا سامنا رہا ہو، تو وہ تمام بقایا جات یکم ستمبر سے ادا کر دیے جائیں گے۔ اس فیصلے سے پنشنرز کو ایک مالی سکون ملے گا اور ان کی مشکلات کم ہوں گی۔
حکومت کا 10 ارب روپے ماہانہ پنشن کے لیے جاری کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ای او بی آئی کی پنشن کی مد میں ماہانہ 10 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت ای او بی آئی پنشنرز کے واجبات کو بروقت اور پوری طرح ادا کر سکے۔ اس فیصلے سے ای او بی آئی کا مالی بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور پنشنرز کو کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔
غیر رسمی شعبہ، گھریلو ملازمین اور زرعی مزدوروں کو بھی پنشن سسٹم میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی
حکومت نے اس فیصلے میں مزید ایک اہم نقطہ شامل کیا ہے کہ غیر رسمی شعبے، گھریلو ملازمین اور زرعی مزدوروں کو بھی ای او بی آئی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات کو بھی پنشن کے فوائد حاصل ہوں۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ان طبقات کو پنشن سسٹم میں شامل کرنے کے طریقہ کار پر سفارشات تیار کرے گی۔
ماہرین اور پنشنرز کا حکومتی فیصلے کو سراہنا
یہ فیصلہ نہ صرف پنشنرز بلکہ معاشی ماہرین کے لیے بھی خوش آئند ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ریٹائرڈ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں معاشرتی تحفظ کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔ حکومت کا یہ اقدام اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے ایک بڑا تحفہ ثابت ہو گا اور ان کی زندگیوں میں اہم تبدیلی لا سکتا ہے۔
ای او بی آئی پنشنرز کے لیے حکومت کا فیصلہ ایک خوشخبری ہے جو نہ صرف پنشنرز کی مالی حالت بہتر کرے گا بلکہ معاشرتی تحفظ کے نظام میں ایک نئی جان ڈالے گا۔ اس اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اس عزم کا بھی مظہر ہے کہ وہ معاشی کمزوری کا شکار طبقات کے لیے مزید اقدامات کرے گی، تاکہ انہیں ایک محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری وسائل میسر ہوں۔




