“دریا قصوروار نہیں… وہ تو بس اپنی زمین پر واپس آیا ہے!”
بارش فطرت کا حصہ ہے، مسئلہ ہماری تیاری کا ہے
ہر سال بارش ہوتی ہے — کبھی کم، کبھی زیادہ۔
یہ قدرتی عمل ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن جب ہم ہر بار بارش سے “حیران” ہو کر،
آخری وقت پر ردعمل دیتے ہیں، تو تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مسئلہ بارش نہیں، ہماری منصوبہ بندی کی کمی ہے۔
2. 🌊 دریا صدیوں سے وہیں تھا — ہم نے اس کی راہ پر قبضہ کیا
دریا اپنی مخصوص گزرگاہ رکھتا ہے۔ یہ راستے قدرت نے ہزاروں سال میں بنائے۔
ہم نے وہی پرانے دریائی راستے رہائشی علاقوں، سڑکوں اور بازاروں میں تبدیل کر دیے۔
تو جب دریا واپس آتا ہے، وہ بپھرا نہیں ہوتا — بس اپنی زمین کو لوٹ رہا ہوتا ہے۔
3. 🧱 بستیاں دریا کے پیٹ میں، پھر بھی الزام دریا پر؟
کئی دیہات، قصبے اور شہر ایسے علاقوں میں آباد کیے گئے جہاں دریا پہلے بہا کرتا تھا۔
نقشے، ریکارڈ اور ماحولیاتی ماہرین دہائیاں دیتے رہے کہ یہ خطرناک ہے۔
مگر ہم نے نظرانداز کیا۔
اب جب پانی اپنے قدرتی بہاؤ سے واپس آیا، تو ہم چیخ اٹھے:
“دریا ظالم ہے!”
4. ⚠️ دریا کو قابو میں لانے کی ضد، قدرت سے ٹکر کے مترادف
ہم ڈیمز، بند، کنکریٹ کی دیواریں بنا کر دریا کو قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن فطرت سے جیتنا ممکن نہیں۔ ایک دن وہ اپنا راستہ خود نکال لیتی ہے۔
پھر نہ بند کام آتے ہیں، نہ دعوے، نہ منصوبے۔
5. 💡 حل کیا ہے؟ فطرت کے ساتھ جینا سیکھیں، اس کے خلاف نہیں
-
دریا کے پرانے راستے محفوظ رکھیں
-
کچے کے علاقوں میں غیر قانونی آبادیاں روکی جائیں
-
بارش کے پانی کے لیے قدرتی راستے بحال کیے جائیں
-
شہری منصوبہ بندی میں ماحولیاتی سائنسدانوں کو شامل کیا جائے
-
عوام میں قدرتی آفات سے متعلق شعور پیدا کیا جائے
✅ نتیجہ: دریا بے قصور ہے، ہم بھٹکے ہوئے ہیں
جب ہم فطرت کی حد پار کرتے ہیں، تو فطرت خاموش نہیں رہتی۔
دریا کو الزام دینا آسان ہے،
مگر سچ یہ ہے: دریا وہیں بہے گا جہاں ہمیشہ بہتا آیا ہے — قصور ہم میں ہے، وہ نہیں۔




