“جب کانفرنس کی تصویر سامنے آئے، اور سیاست کا جنازہ پہلے ہی نکال دیا گیا ہو—یقین مانیے، معنی خود بولتے ہیں!”

ہیڈنگ: سیاست کا جنازہ — OIC کانفرنس کی دیوار پر لکھی تحریر

🕯️ 1. تصویر جو چیخ رہی ہے، مگر آواز کوئی نہیں سن رہا

یہ صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک علامت ہے — OIC کانفرنس کی میز پر بیٹھے ہوئے لوگ، سوٹ، ٹائیاں، پرچم، فلیش لائٹس — سب کچھ ہے، مگر کچھ نہیں ہے۔
جو چیز نہیں ہے، وہ ہے سیاسی اختیار، نظریاتی وزن، اور قومی خودمختاری کا عکس۔

اور تب ہی تو دل کہہ اٹھتا ہے:
“اور بتائیں، کہ اس دی گئی تصویر میں ساری سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے!”


🪑 2. کرسی پر وزیر بیٹھا ہے، فیصلے کسی اور کی جیب میں ہیں

OIC جیسا فورم کبھی مسلم دنیا کی آواز ہوا کرتا تھا۔ آج صرف “تصویری کارنر” بن چکا ہے۔
پاکستان کے نمائندے کانفرنس میں بیٹھے تھے، لیکن جو غیر موجود تھا وہ حقیقی بیانیہ اور خودمختار خارجہ پالیسی تھی۔

یہ وہی ملک ہے جہاں:

  • خارجہ پالیسی کہیں اور بنتی ہے

  • دفاعی فیصلے سیاسی وزراء سے پہلے اخبار کو معلوم ہوتے ہیں

  • اور عالمی فورمز پر سول حکومت نمائندہ ہوتی ہے، نمائندہ نہیں ہوتی


🧳 3. OIC: اجلاس ہوا، قراردادیں آئیں، مگر جنازہ پھر بھی چلتا رہا

کیا کشمیر کا ذکر ہوا؟ ہوا۔
کیا فلسطین پر بیان آیا؟ آیا۔
مگر عمل؟ ردعمل؟ عالمی دباؤ؟ صفر۔

کیونکہ کانفرنس کی میز پر صرف الفاظ تھے، کوئی وزن نہیں۔
اور ہم جانتے ہیں، جب بیانیہ مردہ ہو جائے، تو اجلاس قبرستان کی مجلس بن جاتے ہیں۔


🎖️ 4. سیاست کہاں مری؟ جب وردی بیانیہ لکھنے لگی

پاکستانی سیاست کا جنازہ کب نکلا؟

  • جب عوامی مینڈیٹ “سیلیکٹڈ” سے بدل گیا

  • جب سیاستدان جیلوں میں اور نیوٹرلز ہر اجلاس میں تھے

  • جب منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے “پسِ پردہ” قافلے چلنے لگے

OIC کی اس تصویر میں سیاست صرف اس لیے مردہ نہیں کہ وزراء ناکام ہیں — بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے پیچھے جو “نگران” بیٹھا ہے، وہ کبھی سامنے نہیں آتا، مگر ہر فیصلہ وہی کرتا ہے۔


🎭 5. عوام کے نام ایک سوال: کب تک خاموش رہو گے؟

یہ تصویر صرف ایک کانفرنس کی نہیں — یہ پاکستان کی موجودہ سیاسی حقیقت کی علامت ہے۔
جہاں جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے تک ہے،
حکومت صرف کرسی پر بیٹھنے تک ہے،
اور سیاست صرف اخبارات کی شہ سرخیوں تک۔

اور ا

    صل اقتدار

؟ وہ ان ہاتھوں میں ہے جنہوں نے کبھی ووٹ نہیں مانگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں