“سب اچھا ہے… بس تھوڑا بہت فوج سے لڑائی، اور تھوڑا سا اقتدار کا دردِ زہ!”
معید پیرزادہ نے رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “رانا صاحب کی باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ شریف خاندان اور جنرل عاصم منیر کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”
اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ ن لیگ والے جب “اداروں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترین ہیں” کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے:
“کچھ تو گڑبڑ ہے!”
رانا ثناء اللہ کا اندازِ بیان بھی کچھ ایسا ہی تھا، جیسے کوئی رشتہ دار ولیمے میں آئے اور پوچھنے پر کہہ دے:
“نہیں نہیں، ہم تو صرف خوشی میں شریک ہونے آئے ہیں، باقی دلہن والوں سے ہماری کوئی ناراضی نہیں!”
بس اتنا سننا کافی ہوتا ہے سمجھنے کے لیے کہ قصہ کیا ہے۔
ن لیگ کی سیاست کا کمال یہ ہے کہ جب بھی ان کا “بیانیہ” ناکام ہوتا ہے، تو فورا اداروں سے “مسئلے” شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جب اقتدار میں ہوتے ہیں، تو ہر جرنیل ان کے بقول “جمہوریت کا چمکتا ہوا سورج” بن جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی سب ٹھیک ہے، تو رانا صاحب کو وضاحتیں دینے کی کیا ضرورت پڑی؟
یا تو “سب اچھا” ہے، یا پھر “سب جل رہا ہے” — دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔
معید پیرزادہ کا تبصرہ دراصل ن لیگ کی اُس پرانی بیماری کی نشاندہی ہے، جو ہر کچھ سال بعد اٹھتی ہے:
“اداروں سے امید بھی، شکوہ بھی، ناراضی بھی، اور مفاہمت بھی — سب ایک ہی تقریر میں!”



