یومِ دفاع پر وزیراعظم کا بیان: “پاکستان امن چاہتا ہے، مگر بھارتی اشتعال انگیزی سے غافل نہیں”
6 ستمبر — یومِ دفاعِ پاکستان
یومِ دفاع کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے قومی وحدت، افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور خطے کی بدلتی صورتحال پر روشنی ڈالی۔
“پاکستان امن کا خواہاں ہے” — وزیراعظم کا مؤقف
وزیراعظم نے کہا کہ:
“پاکستان ایک پرامن قوم ہے، ہم خطے میں استحکام، ترقی اور باہمی احترام پر یقین رکھتے ہیں۔”
یہ بیان پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ جنگ اور تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ بات چیت، سفارتکاری اور تعاون ہی دیرپا امن کی کنجی ہیں۔
“لیکن بھارتی اشتعال انگیزی سے غافل نہیں رہ سکتے”
اپنے بیان میں شہباز شریف نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ:
“ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔”
یہ بیان خاص طور پر انڈین قیادت اور میڈیا کے بعض حالیہ بیانات کے پس منظر میں آیا ہے، جن میں پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔
افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین
وزیراعظم نے 1965 کی جنگ میں افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا:
“ہمارے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کی سرحدوں کا دفاع کیا۔ قوم آج بھی ان کی مقروض ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج آج بھی ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
تجزیہ: توازن، ہوشیاری اور قومی مفاد
سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا بیان:
-
سفارتی توازن کا عکاس ہے — امن کا پیغام بھی، مگر خبردار کرنے کا انداز بھی
-
اندرونی سیاسی استحکام کے لیے اہم — قوم کو متحد رکھنے کی کوشش
-
بھارتی قیادت کو واضح پیغام — کہ پاکستان کمزور نہیں، صرف پرامن ہے
خطے میں اثرات
-
پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں
-
کشمیر، سیز فائر لائن، اور سرحدی بیانات نے کشیدگی کو بڑھا رکھا ہے
-
ایسے میں پاکستان کا یہ پیغام — امن + دفاع — ایک معتدل مگر پُرعزم حکمت عملی ہے
پاکستان نے ایک بار پھر امن کو ترجیح دی، مگر اپنی حدود کا دفاع کرنا بھی جانتا ہے
یومِ دفاع کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا بیان دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ پاکستان:
✅ امن کا حامی ہے
✅ دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا
✅ بھارت کی پالیسیوں سے غافل نہیں
✅ اور افواجِ پاکستان ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں



