نواز شریف اور مریم نواز کی بنگلہ دیش کے مشیر برائے مذہبی امور سے اہم ملاقات۔
سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے مذہبی امور سے ایک اہم اور دوستانہ ملاقات کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس ملاقات میں خطے کی موجودہ صورت حال، مذہبی رواداری، اور باہمی تعلقات کی مضبوطی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے برادر مسلم ممالک کے لیے مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارہ نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ اقدار کو اجاگر کرنا اور مختلف قوموں کے درمیان پل بنانے کا کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی تعاون نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کے دلوں میں بھائی چارے اور محبت کو بھی فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ثقافت اور مذہب کی عزت کرتے ہیں اور اس حوالے سے تعلیم و تربیت کے پروگرامز کا تبادلہ ایک مثبت قدم ہو گا۔
اس موقع پر بنگلہ دیش کے مشیر برائے مذہبی امور نے پاکستان کی سیاسی قیادت کی طرف سے محبت اور تعاون کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ ناگزیر ہے۔
ملاقات میں دونوں جانب سے مذہبی سیاحت، تعلیمی تبادلوں، اور مشترکہ ثقافتی تقریبات کے انعقاد کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف بھائی چارے کو فروغ دیں گی بلکہ نوجوان نسل کو بھی مثبت سوچ اپنانے میں مدد دیں گی۔
مزید برآں، دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مذہبی معاملات میں مشترکہ تعاون خطے کے استحکام کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک کی مشترکہ آواز کو مضبوط بنانے کی بھی ضرورت پر زور دیا تاکہ عالمی برادری میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکیں۔
ملاقات کے آخر میں نواز شریف اور مریم نواز نے بنگلہ دیش کے مشیر برائے مذہبی امور کو پاکستان میں دوبارہ خوش آمدید کہا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔



