صدر آصف علی زرداری کا J-10C بنانے والے چینی کمپلیکس کا تاریخی دورہ
“ہماری فضائی طاقت، ہمارا فخر – چین کے ساتھ دوستی نئے افق پر”
تعارف: ایک دورہ، جو تاریخ میں رقم ہو گیا
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے چین کے شہر چنگدو میں واقع Aviation Industry Corporation of China (AVIC) کے اُس ایئرکرافٹ کمپلیکس کا دورہ کیا جہاں جدید ترین J-10C فائٹر جیٹس تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ دورہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ صدر زرداری وہ پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں جنہیں اس حساس عسکری تنصیب تک رسائی دی گئی — ایک ایسا واقعہ جو پاک چین دفاعی تعلقات کی گہرائی اور اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دورے کا وقت – ایک خاص سفارتی پیغام
یہ دورہ ایسے وقت پر کیا گیا جب بھارت سے جنگ بندی کو 128 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح جیوپولیٹیکل پیغام ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور پاکستان کی دفاعی قیادت نہ صرف اپنی تیاری کا جائزہ لے رہی ہے بلکہ عالمی اتحادیوں کو یہ بتا رہی ہے کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
کمپلیکس میں کیا ہوتا ہے؟ – J-10C اور اس کی اہمیت
یہ چینی کمپلیکس چین کی ایوی ایشن ٹیکنالوجی کا دل ہے جہاں کئی اہم جنگی طیارے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں نمایاں ہیں:
-
J-10C Vigorous Dragon:
چینی فضائیہ کا جدید ترین ملٹی رول فائٹر، جو اب پاکستان کے پاس بھی موجود ہے۔-
AESA ریڈار
-
بیونڈ ویژول رینج میزائل
-
ایویونکس میں اعلیٰ ٹیکنالوجی
-
الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز
-
-
JF-17 Thunder:
پاکستان اور چین کا مشترکہ شاہکار، جسے دنیا کے جدید اور سستے جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ -
J-20 Stealth Fighter:
چین کا پانچویں جنریشن اسٹیلتھ طیارہ، جو امریکی F-22 اور F-35 کا جواب سمجھا جاتا ہے۔
صدر زرداری کو دی گئی بریفنگ – ٹیکنالوجی کا مکمل جائزہ
صدر مملکت کو:
-
J-10C، JF-17، J-20، اور دیگر ایئرکرافٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
-
جدید ڈرونز، آٹونومس جنگی سسٹمز، اور AI انٹیگریشن کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا
-
ملٹی ڈومین آپریشنز (زمینی، فضائی، سائبر) پر پیش رفت سے بھی روشناس کرایا گیا
صدر نے چینی سائنسدانوں، انجینئرز اور عسکری حکام سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں چین کے تعاون کو “بے مثال” قرار دیا۔
معرکۂ حق اور “بنیان مرصوص” – J-10C کا حقیقی امتحان
صدر زرداری نے خصوصی طور پر ان آپریشنز کا ذکر کیا جن میں J-10C اور JF-17 نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا:
🔹 معرکۂ حق – مئی 2025
ایک فضائی معرکہ جہاں پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دلیری اور مہارت سے دیا۔
J-10C کی پریسیشن اسٹرائکس نے دشمن کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
آپریشن بنیان مرصوص
یہ ایک مشترکہ ملٹری آپریشن تھا جس میں فضائیہ، بحریہ، اور زمینی افواج نے مربوط کارروائی کی۔ JF-17 نے فضائی تحفظ فراہم کیا جبکہ J-10C نے ڈیپ اسٹرائکس میں اہم کردار ادا کیا۔
پاک چین شراکت داری – دفاع سے بڑھ کر ایک رشتہ
صدر زرداری نے اپنے خطاب میں کہا:
“یہ صرف دفاعی تعاون نہیں، یہ ہمارے اعتماد، دوستی اور خطے میں امن کے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔”
چین اور پاکستان کے مابین دفاعی شراکت داری صرف ہتھیاروں کی فراہمی تک محدود نہیں، بلکہ:
-
مشترکہ تحقیق و ترقی (R&D)
-
لائسنس یافتہ پروڈکشن
-
ٹیکنالوجی ٹرانسفر
-
فوجی تربیت اور ڈاکٹرائن شیئرنگ
جیسے اہم شعبوں میں گہرائی تک جا چکی ہے۔
وفد کی اہم شخصیات – سیاسی و قومی یکجہتی کا پیغام
صدر کے ہمراہ:
-
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
-
خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری
-
سینیٹر سلیم مانڈوی والا
یہ شرکت اس بات کا مظہر تھی کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اسٹریٹجک فیصلوں پر متحد ہے۔
تجزیہ: عالمی پیغام اور اثرات
بھارت کے لیے ایک واضح پیغام:
پاکستان کی دفاعی تیاری صرف علامتی نہیں بلکہ حقیقی، جدید اور مربوط ہے۔
عالمی برادری کے لیے اشارہ:
پاکستان، چین جیسے عالمی طاقت کے ساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ عملی دفاعی اشتراک رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی میں خودکفالت کا سفر:
پاکستان، چینی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے دفاعی انحصار کو مقامی بنانے کے سفر پر ہے۔
ایک تاریخی لمحہ، ایک مضبوط پیغام
صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ ایک سنگِ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان:
-
اپنی فضائی طاقت کو جدید بنا چکا ہے
-
بین الاقوامی سطح پر اعتماد کا حامل ہے
-
اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہا ہے
یہ دورہ صرف ایک معائنہ نہیں تھا، یہ پاکستان کے قومی دفاع، سفارت کاری، اور ٹیکنالوجی میں خودمختاری کے عزم کا اظہار تھا۔



