“یہ ہے وہ قوم جو کبھی شکست نہیں کھا سکتی!”

چار دن پہلے، دشمن کا ایک میزائل لیفٹننٹ کرنل ظہیر عباس طوری کے گھر گرا، اور ان کا سات سالہ معصوم بیٹا ارتضاء طوری شہید ہو گیا۔ ایک والد کے لیے اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود آج اسی مٹی پر باپ اپنے شہید بیٹے کی قربانی کے بدلے جشنِ فتح میں مسکرا رہا ہے۔

فوجی جوانوں کے کندھوں پر ارتضاء کے چھوٹے بہن بھائی خوشی سے جھوم رہے ہیں، اور اس منظر میں ایک خاص قوت اور عزم کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو شکست سے کبھی نہیں ڈرتی۔ شہادتوں کے باوجود ان کی روح میں عزم و ہمت کا ایک نیا جوش پیدا ہوتا ہے، جو ان کے دفاعی قوت اور غیر متزلزل عزم کی نشانی ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی قربانیوں کے باوجود، اپنے وطن کے لیے لڑنے کا حوصلہ نہیں چھوڑتے، اور اپنی فتح کے دن کی خوشیاں اسی مٹی پر جیتے ہیں جسے ان کے دشمن نے خاک میں ملانے کی کوشش کی تھی۔ یہ قوم ہمیشہ بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، اور ہر مشکل کو اپنے عزم و ہمت سے شکست دیتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں