“کشمیر میں جاری ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی، ڈی جی آئی ایس پی آر کا بڑا بیان”

پاکستانی فوج کے ترجمان، ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ “کشمیر سے ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کے گھروں کو مسمار کیا گیا”۔ انہوں نے واضح کیا کہ “جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکالا جاتا، دونوں ممالک میں پائیدار امن ممکن نہیں۔”

کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کشمیر میں بھارت کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی طرف دنیا کی توجہ دلائی۔ ہزاروں کشمیریوں کی حراست اور ان کے گھروں کی مسماری جیسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جو کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہیں۔

پاکستان کا موقف: امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ “امن کا قیام صرف تب ہی ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کا ایک منصفانہ حل نکالا جائے”۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “کشمیر کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے، اور جب تک اس کا حل نہیں نکلتا، دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہو سکتا”۔

عالمی برادری کی ذمہ داری
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کی حفاظت کرے اور بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں