“جب آپ کے فون کی سکرین پر ’بھیگنے والے فلٹرز‘ چھپکلیوں کی طرح آپ کا ڈیٹا چاٹ جائیں، تو ان ایپس کی چمک دھوکہ ہے۔”
سائبرسیکیورٹی تحقیق کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر 300 سے زائد خطرناک اینڈرائیڈ ایپس چھپی ہوئی تھیں جنہوں نے اد فراڈ اور صارفین کے حساس ڈیٹا کی چوری کے لیے ’وپور‘ (Vapor) مہم چلائی۔ ان ایپس کو مجموعی طور پر 331 منفرد آپلیکیشن آئی ڈیز کے تحت تعینات کیا گیا، اور ان کی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 60 ملین سے تجاوز کر گئی
ان میں ایسی ایپس شامل تھیں جو نظر آنے میں یوٹیلیٹی یا فٹنس ٹریکرز، کیو آر اسکینرز یا وال پیپر ایپس لگتی تھیں، لیکن حقیقت میں یہ بغیر کسی حقیقی فنکشن کے دن میں 200 ملین اشتہاری درخواستیں بھجوا کر اد فراڈ کرتی تھیں اور صارف سے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اور لاگ اِن کرڈینشلز چھیننے کی کوشش کرتی تھیں
سیکیورٹی فرم بٹ ڈیفینڈر اور IAS تھریٹ لیب کے مطابق ان ایپس میں سے صرف چند کو ہٹایا گیا، جبکہ باقی اسٹور پر چھپے رہے، جس سے صارفین کو مسلسل خطرہ لاحق ہے
۔ گوگل نے بعد ازاں متعدد ایپس کو بلاک اور ریموو کیا، مگر تحقیق کار انتباہ کرتے ہیں کہ کچھ ایپس پھر بھی پوشیدہ انداز میں کام کر رہی ہیں۔
اینڈرائیڈ ورژن اپ ڈیٹ کریں – جدید ترین OS ورژن (مثلاً اینڈرائیڈ 15) سکیورٹی کی اضافی تہہ فراہم کرتا ہے۔
غیر ضروری ایپس ان انسٹال کریں – وہ ایپس جنہیں آپ استعمال نہیں کرتے یا نامعلوم ڈیویلپرز کی ہوں۔
ایپ پرمیشنز کا جائزہ لیں – کسی بھی ایپ کو غیر متعلقہ پرمیشنز (کیمرہ، مائیکروفون، SMS) نہ دیں۔
گوگل پلے پروٹیکٹ فعال رکھیں – یہ فیچر خطرناک ایپس کی جانچ کرکے وارننگ دیتا ہے۔
سیکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں – اینٹی مالویئر ایپس سے اپنے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنائیں۔
اپنے ذاتی اور مالی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے فوری طور پر ان اقدامات کو اپنائیں۔




