“عمران خان کا پیغام واضح: حکومت نہیں، پاکستان کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے بات کو تیار ہوں!”
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں علیمہ خان، بیرسٹر گوہر اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران اہم سیاسی اور قومی معاملات پر پوزیشن واضح کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ وہ **ملک کی بہتری اور قومی مفاد** کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن **حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں**۔
علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے تین بنیادی نکات پر زور دیا:
1. **(ن) لیگ سے کوئی بات نہیں ہوگی** کیونکہ ان کے مطابق، اس جماعت نے پاکستان کی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے۔
2. **انصاف کا نظام تباہ ہو چکا ہے**، خصوصاً 26ویں آئینی ترمیم کے بعد، جس پر انہوں نے بھرپور احتجاج کی ضرورت پر زور دیا۔
3. **حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کی تلقین** کی اور کہا کہ ظلم سہنے والوں جیسے یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی کو مثال بنانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ “فوج میری ہے، ملک میرا ہے” اور **قومی اداروں کے ساتھ اتحاد کی اہمیت** پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ڈیل کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ **صرف پاکستان کی خاطر بات ہوسکتی ہے، ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔**
عمران خان کی یہ پوزیشن اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اب بھی **پاکستان کی قیادت اور قومی ڈائیلاگ میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار** ہیں، بشرطیکہ مقصد **ملکی استحکام اور انصاف کی بحالی** ہو۔




