“امریکہ کا نیا ایٹمی بم B61-13 — 360 کلوٹن کی تباہی، دنیا ایک نئی دوڑ کی دہلیز پر؟”
امریکہ نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں ایک نیا، زیادہ طاقتور نیوکلیئر بم B61-13 شامل کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی تباہ کن صلاحیت 360 کلوٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ بم پرانے B61-7 بم کی جگہ لے رہا ہے، اور خاص طور پر ایسے ٹارگٹس کے لیے تیار کیا گیا ہے جو وسیع رقبے پر پھیلے ہوں یا انتہائی مضبوط دفاعی ڈھانچے رکھتے ہوں۔
B61-13 کی یہ خصوصیات اسے نہ صرف جدید دور کے جنگی تقاضوں کے مطابق بناتی ہیں بلکہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے خدشات کو بھی ہوا دے رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس بم کی تعیناتی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا پہلے ہی جغرافیائی کشیدگی، یوکرین جنگ، اور چین و امریکہ کے تناؤ جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف ڈیٹرنس (روک تھام) کی پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے ہے، تاہم ناقدین اسے خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جو عالمی اسٹریٹیجک توازن کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے.




