“ناتجربہ کاری، جلد بازی اور پہاڑی سڑکیں — نوجوانوں کے سفر کا دردناک انجام”
گلگت سے سکردو جانے والے راستے پر حالیہ حادثے نے ایک بار پھر **پہاڑی ڈرائیونگ کے خطرات** اور **ناتجربہ کاری کے نتائج** کو نمایاں کر دیا۔ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں **کوئی تجربہ کار ڈرائیور موجود نہیں تھا**—تمام نوجوان تھے، جنہیں پہاڑی ڈرائیونگ کے حساس نکات کا علم نہ ہونے کے باعث ایک **قیمتی نقصان** برداشت کرنا پڑا۔
اگرچہ **سکردو روڈ کی تعمیر و توسیع** نے فاصلے کو **آٹھ گھنٹے سے ساڑھے تین گھنٹے** تک محدود کر دیا ہے، مگر یہی سہولت اکثر نوجوان ڈرائیورز کو **جلد بازی اور ریکارڈ توڑنے** کی دوڑ میں ڈال دیتی ہے۔
حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق **گاڑی کے بریک کا حد سے زیادہ استعمال** کیا گیا، جس سے وہ **گرم ہو کر ناکارہ** ہو گئے۔ پہاڑی علاقوں میں یہ ایک عام مگر مہلک مسئلہ ہے۔ جب ڈرائیور کو بریک فیل ہونے کا احساس ہوتا ہے، تب تک گاڑی اکثر **کنٹرول سے باہر ہو چکی ہوتی ہے۔**
مزید بدقسمتی یہ رہی کہ **گاڑی ایسی جگہ پر گری جو نظروں سے اوجھل تھی** اور کوئی دوسرا مسافر یا گاڑی وہاں موجود نہ تھی کہ فوری اطلاع دے سکے۔ یہ وقت پر امداد نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ بنی۔
یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے ایک **تلخ سبق** ہے کہ پہاڑوں میں سفر صرف رفتار یا وقت کی دوڑ نہیں بلکہ **تحمل، سمجھداری، اور مکمل تیاری** کا تقاضا کرتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر:
* **گاڑی کا مکمل معائنہ:** سسپنشن، بریک، ٹائر، رم، اور ہوا کا پریشر چیک کریں۔
* **رفتار محدود رکھیں:** خاص طور پر ڈھلوان اور موڑ پر گاڑی کو **پہلے یا دوسرے گئیر میں چلائیں** تاکہ بریک کا استعمال کم ہو۔
* **وقفے لیں:** طویل ڈرائیونگ میں وقفہ ضروری ہے تاکہ نہ گاڑی تھکے نہ ڈرائیور۔
* **ریلیکس رہیں:** پہاڑوں کا سفر نظارے کے ساتھ ہو، نہ کہ وقت کور کرنے کی کوشش میں۔
آخر میں دعا ہے کہ **اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے** اور ایسے حادثات سے محفوظ رکھے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ پہاڑوں کی خوبصورتی سے لطف ضرور لیں، مگر **ذمہ داری کے ساتھ۔**شمالی علاقوں کا خواب، سانحے میں بدل گیا – سکردو روڈ پر لاپتہ چاروں دوستوں کی گاڑی ملی، اموات کی غیرمصدقہ اطلاعات




