دو برادر اسلامی ممالک، پاکستان اور آذربائیجان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں — یہ رشتہ صرف سفارتی نہیں، دلوں کا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ “آذربائیجان کے عوام کا پاکستانی عوام کے ساتھ لازوال رشتہ ہے” ایک حقیقت ہے جو دونوں ممالک کی دوستی، بھائی چارے اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات کی گواہی دیتی ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان یہ رشتہ وقتی یا مفاداتی نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور تاریخی بنیاد پر قائم ہے، جسے مذہبی، ثقافتی اور عوامی ہم آہنگی نے مزید مضبوط کیا ہے۔
پاکستان نے آذربائیجان کو اس کی آزادی کے فوراً بعد تسلیم کیا، اور تب سے دونوں ممالک نے ہر عالمی فورم پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے آرمینیا کو تسلیم نہ کرنا اور آذربائیجان کے مؤقف کی کھل کر حمایت کرنا اس دوستی کی واضح مثال ہے۔ دوسری جانب آذربائیجان نے بھی ہمیشہ کشمیری عوام کی حمایت کی ہے، جو اس باہمی یکجہتی کا مظہر ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون بھی قابلِ ذکر ہے، جہاں دفاعی مشقیں، تربیتی پروگرام اور دفاعی معاہدے شامل ہیں۔ توانائی، زراعت، تعلیم، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں بھی تعلقات کو وسعت دی جا رہی ہے، جس سے دونوں معیشتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
سب سے اہم پہلو عوامی سطح پر محبت اور بھائی چارہ ہے۔ آذربائیجان کے عوام پاکستانی عوام کے لیے خاص جذبات رکھتے ہیں، جس کا اظہار ہر سطح پر ہوتا رہا ہے۔ چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا قومی دن، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیر اعظم کا یہ بیان دراصل ان جذبات، اس تاریخ اور اس مستقبل کا ترجمان ہے جو پاکستان اور آذربائیجان کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ یہ لازوال رشتہ وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے — اور یہی حقیقی سفارتی کامیابی ہ



