کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی پیشکش، اور ساتھ میں جدید میزائل دفاعی نظام ‘گولڈن ڈوم’ مفت!
امریکی صدر ٹرمپ کی انوکھی پیشکش:
کینیڈا اگر امریکا کا حصہ بن جائے تو ‘گولڈن ڈوم’ دفاعی نظام مفت ملے گا
واشنگٹن (ویب ڈیسک) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن کر عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک انوکھا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن جائے تو اسے امریکا کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی ‘گولڈن ڈوم’ مفت فراہم کی جائے گی۔ یہ میزائل دفاعی نظام امریکا کی سلامتی کا نیا ہتھیار ہے جس کی لاگت 175 ارب ڈالر ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور کینیڈا کا موقف
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر واضح کیا کہ اگر کینیڈا خودمختار رہے گا تو اسے گولڈن ڈوم دفاعی نظام میں شمولیت کے لیے 61 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک 175 ارب ڈالر کے دفاعی منصوبے میں سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے، تاہم کینیڈا امریکا کے ساتھ ضم ہونے کے حوالے سے بالکل تیار نہیں ہے۔
گولڈن ڈوم دفاعی نظام کی خصوصیات:
گولڈن ڈوم امریکا کا نیا میزائل دفاعی نظام ہے، جس کی مدد سے دشمن کے میزائلوں کو فضا میں مار گرایا جا سکتا ہے۔
اس نظام میں سیٹلائیٹ ٹریکنگ اور سپیس انٹرسیپٹرز شامل ہیں، جو زمین کے گرد مدار میں بھی تعینات کیے جائیں گے۔
منصوبہ ٹرمپ کی دوسری صدارت کے اختتام تک مکمل ہونے کا ارادہ ہے، اور اس پر 175 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
سیاسی اور دفاعی تناظر:
ٹرمپ کی یہ پیشکش ایک نئی امریکی خارجہ پالیسی کی جھلک ہے، جس میں دفاعی تعاون کو بڑھانے کے لیے علاقائی اتحاد اور جغرافیائی تبدیلیوں کا بھی ذکر شامل ہے۔
کینیڈا کے لیے یہ پیشکش دو طرح کے فیصلے کا موقع ہے: یا تو وہ امریکی دفاعی نظام کا حصہ بن کر مفت جدید ٹیکنالوجی حاصل کرے یا خود مختار رہتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کرے۔
یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا میں عالمی سیکیورٹی اور دفاعی توازن ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان کینیڈا-امریکا تعلقات اور شمالی امریکہ کی سیاسی حدود کے حوالے سے ایک دلچسپ بحث کو جنم دے گا۔




