“سیکیورٹی خدشات یا سیاسی چال؟ ٹرمپ کا 12 ممالک کے شہریوں پر پابندی کا فیصلہ دنیا کو چونکا گیا۔”
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے 12 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے، جسے بعض ماہرین نسلی تعصب پر مبنی اقدام اور امریکی امیگریشن پالیسی میں سختی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
یہ پابندی ان ممالک پر لگائی گئی ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے “سلامتی کے لیے خطرہ” قرار دیا، جن میں زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مخصوص قومیتوں اور مذاہب کو نشانہ بنانا ہے، جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ امریکی عوام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بچانے کے لیے ضروری تھا۔
اس فیصلے نے امریکہ میں مقیم ان ممالک کے خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ ہزاروں افراد اپنے پیاروں سے ملنے یا امریکا میں بہتر مستقبل کی تلاش کے لیے آنے سے محروم ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پابندی کو غیر انسانی اور امتیازی سلوک قرار دیتی ہیں، جب کہ کچھ حلقوں میں اسے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی پابندی کا فیصلہ بظاہر قومی سلامتی کے نام پر کیا گیا، مگر اس کے سیاسی، سماجی اور انسانی اثرات ابھی تک بحث کا موضوع ہیں۔



