“چین کی J-35A پیشکش نے پاکستان کی فضائی قوت کو دی نئی اڑان — دفاعی میدان میں بدلتا توازن!”
چین نے پاکستان کو اپنی پانچویں نسل کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر J-35A کے ۴۰ طیاروں کی فراہمی کی پیشکش کی ہے، جسے اگست ۲۰۲۵ سے مرحلہ وار ڈیلیور کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کے فضائی بیڑے میں طاقت کا ایک نیا زاویہ کھولے گا بلکہ دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
۲. ٹیکنالوجی اور عسکری اہمیت:
J-35A میں جدید ریڈار بگاڑنے والی صلاحیت اور طویل فاصلے تک ہدف نشانہ بنانے کے نظام موجود ہیں، جو بھارت کے رافیل اور Su-30 کے مقابلے میں سُرعت، پوشیدگی اور اثرو رسوخ میں نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ چین کے KJ-500 AWACS اور HQ-19 بیلسٹک میزائل دفاعی سسٹم کی فراہمی پر بھی مذاکرات جاری ہیں، جو پاکستان کو جامع فضائی اور دفاعی تنصیبات سے لیس کریں گے۔
۳. تربیت اور بروقت نفاذ:
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پائلٹس کی ابتدائی تربیت پہلے ہی چین میں شروع ہو چکی ہے اور اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر گیا تو چین پاکستان ایئر فورس کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے میں بھی تعاون کرے گا، جس سے ٹیکنیکل سپورٹ اور فیلڈ اسپئر پارٹس کی فراہمی ممکن ہو گی۔
۴. خطے پر اثرات اور توازنِ طاقت:
جنوبی ایشیا میں دفاعی کشیدگی کے تناظر میں یہ پیشکش ایک واضح اشارہ ہے کہ چین اپنے اتحادیوں کی سٹرٹیجک صلاحیت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے روسی اور فرانسیسی معاہدوں کے جواب میں پاکستان کی فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے J-35A ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔
۵. ماضی سے سبق — F-117A کا سرنگوں ہونا:
یہ یادگار ہے کہ ۲۷ مارچ ۱۹۹۹ کو سربیا نے امریکی اسٹیلتھ طیارہ F-117A کو مار گرا دیا تھا—فقط چند سیکنڈز کے لیے ریڈار آن کرکے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ جدید ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی بھی حکمتِ عملی اور نیٹ ورکنگ کی کمزوری پر شکست کھا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اب یہ چیلنج ہے کہ J-35A کو مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے اپنی ایئر ڈیفنس اور انٹیلی جنس کو بھی اسی درجے تک مضبوط کرے۔




