“جنگلات میں آگ لگائی گئی — حکومتی اعلیٰ حکام نے اپنی تنخواہیں 600 فیصد بڑھا کر عوام کو دہلا دیا!”

جب عوام مہنگائی سے پریشان ہے، تب حکمرانوں نے اپنی تنخواہیں چھ گنا بڑھا لیں!
حال ہی میں حکومت نے اسپیکر قومی اسمبلی اور سینیٹ چیئرمین کی تنخواہیں اچانک بہت زیادہ بڑھا دی ہیں۔ پہلے ان کی تنخواہ تقریباً دو لاکھ روپے تھی، اب وہ 13 لاکھ روپے مہینہ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کئی اور مراعات بھی دی گئی ہیں جیسے گھر، گاڑی، سیکیورٹی، عملہ وغیرہ۔

* عام لوگ آٹے، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔
* سرکاری ملازمین کو صرف 10 فیصد تنخواہ کا اضافہ ملا ہے۔
* مہنگائی اتنی ہے کہ متوسط طبقے کا گزارہ مشکل ہو گیا ہے۔

### 🗣️ لوگوں کا ردعمل:

* عام شہری کہہ رہے ہیں: “یہ ناانصافی ہے، ہمارے لیے کچھ نہیں، اور خود کو لاکھوں روپے دے دیے گئے۔”
* سیاسی جماعتوں نے بھی اس پر سخت تنقید کی ہے اور کہا کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔

* کیا اس وقت تنخواہ بڑھانا ضروری تھا؟
* کیا عوام کی مشکلات کو نظر انداز کر کے صرف اعلیٰ عہدوں کے فائدے دیکھے جا رہے ہیں؟
* کیا ملک کی معیشت ایسی حالت میں ہے کہ حکمران اپنے اخراجات بڑھائیں؟

یہ تنخواہ اضافہ عام آدمی کے لیے ایک جھٹکا ہے۔ عوام بجلی، پانی، آٹا اور پیٹرول کے پیچھے خوار ہو رہی ہے اور حکمرانوں نے اپنے لیے لاکھوں کی تنخواہ طے کر لی۔ یہ فیصلہ عوامی جذبات کے خلاف جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں