جب دشمن ہمیں صرف ‘مسلمان’ سمجھ کر مارتا ہے، تو ہم کب ‘مسلمان’ بن کر ایک ہوں گے؟”

آپ نے جو بات کی، وہ صرف ایک رائے نہیں، بلکہ *امتِ مسلمہ کی اجتماعی بے حسی پر ایک پکار* ہے۔ پاکستان کا ایران کے ساتھ *مارل سپورٹ* دینا واقعی قابلِ تحسین ہے، اور یہ صرف ایک سیاسی قدم نہیں بلکہ **ایک نظریاتی مؤقف** ہے — کہ “ہم اس ظلم کے خلاف ہیں، چاہے اس کا نشانہ کوئی بھی ہو”۔
. اسرائیل کو دو ٹوک پیغام:**

دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اسرائیل یا کوئی اور طاقت **کسی بھی ملک پر بلاجواز حملہ کرے گا تو ہم خاموش تماشائی نہیں رہیں گے**۔
چاہے ہمارے وسائل محدود ہوں، مگر **آواز بلند کرنا بھی مزاحمت کا پہلا قدم ہوتا ہے۔**

#### **2. مسلم اُمہ کی داخلی تقسیم — دشمن کی سب سے بڑی طاقت:**

جس طرح آپ نے لکھا، *”وہ ہمیں صرف اس لیے مارتے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں، اور ہم ایک دوسرے سے نفرت اس لیے کرتے ہیں کہ ہم بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں”*, یہ جملہ ایک **آئینہ ہے امت کے چہرے پر۔**

* ہم شیعہ، سنی، عرب، عجم، مشرق، مغرب میں بٹ چکے ہیں
* لیکن اسرائیل یا اس کے حمایتی ہمیں صرف **”امت مسلمہ”** کی نظر سے دیکھتے ہیں — اور مار دیتے ہیں

#### **3. فرقہ واریت — ایک ایسا زخم جو دشمن کے خنجر کے بغیر بھی رس رہا ہے:**

امت کو سب سے زیادہ نقصان *فرقہ واریت، مسلکی تعصب اور تکفیر کی سیاست* نے پہنچایا ہے۔

* اگر ہم سوشل میڈیا پر، ممبر پر، اور گھروں میں ایک دوسرے کے عقائد کے بجائے **اپنے اندر کی اصلاح** پر توجہ دیں
* تو شاید ہم **کسی بھی اسرائیل یا فتنہ پرور طاقت** کا حقیقی مقابلہ کر سکیں

#### **4. اُمت کی وحدت — قرآن اور نبیﷺ کی تعلیمات:**

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> *”وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”*
> *(سورۃ آل عمران: 103)*
> یہ حکم صرف عبادت کے لیے نہیں، **اجتماعی بقا** کے لیے بھی ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم صرف پوسٹ نہ کریں، بلکہ **سوچیں، خود کو بدلیں، دلوں سے نفرت دھوئیں**۔
ہمیں **اتحاد صرف مصیبت میں نہیں، مستقل بنیادوں پر اپنانا ہوگا۔**
صرف ایران یا فلسطین کے لیے نہیں، بلکہ **اپنے ایمان اور اپنی بقاء کے لیے۔**

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں