ایران اسرائیل جنگ کے 6 دن بعد ایران سے پہلی بار 2 مسافر طیاروں کی روانگی.
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے چھٹے روز، ایران سے پہلی بار دو مسافر طیارے روانہ ہوئے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ ایران کی فضائی حدود میں معمولات کی بحالی کی جانب قدم بڑھایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد، ایرانی حکام نے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت دیگر ہوائی اڈوں کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں پروازیں معطل ہو گئیں اور غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد ایران میں پھنس گئی تھی۔
تاہم، حالیہ دنوں میں ایران نے اپنی فضائی حدود میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ پروازوں کی اجازت دینا شروع کی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ، ایران سے پہلی بار دو مسافر طیارے روانہ ہوئے ہیں، جو ایران کی فضائی حدود میں معمولات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ اقدام نہ صرف ایران کے اندرونی حالات میں استحکام کی علامت ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایران کی جانب سے فضائی روابط کی بحالی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دوران، ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ جاری ہے، جس میں دونوں ممالک کی فضائی افواج ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ایران نے اسرائیل کی فضائی حدود پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے ایران کے اہم فوجی اور نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کشیدگی کے باوجود، ایران سے مسافر پروازوں کی روانگی ایک مثبت پیش رفت ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے، اور بین الاقوامی ادارے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔




