فرانسیسی صدر کا امریکا کو دو ٹوک پیغام: “ہماری خیرسگالی کو کمزوری نہ سمجھا جائے”
یورپ اور امریکا کے درمیان تجارتی تناؤ میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واشگاف الفاظ میں امریکا کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کسی بھی صورت غیر متوازن تجارتی معاہدہ قبول نہیں کرے گا۔
🔹 میکرون کا دو ٹوک مؤقف:
“ہم خیرسگالی سے کام لے رہے ہیں، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔”
فرانس اور یورپ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ فوری، عملی اور مساوی بنیادوں پر تجارتی معاہدہ ہو۔
10 فیصد بنیادی ٹیرف اگر برقرار رکھا گیا، تو یورپ کو بھی جواباً مساوی تجارتی ردعمل دینا ہوگا۔
🔹 پس منظر:
حالیہ مہینوں میں امریکا اور یورپ کے درمیان کئی مصنوعات پر درآمدی محصولات اور سبسڈی پالیسیوں کے باعث تناؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں، زرعی مصنوعات اور صنعتی پرزہ جات پر ٹیرف نے یورپی صنعت کو نقصان پہنچایا ہے، جس پر اب یورپی رہنما مؤثر ردعمل پر زور دے رہے ہیں۔
🔹 یورپ کا متوقع ردعمل:
صدر میکرون کے اس بیان سے واضح ہے کہ اگر امریکا نے رعایت نہ دی تو یورپ بھی اپنی مارکیٹ کو امریکی مصنوعات کے لیے محدود کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔



