“جب انصاف کرنے والے خود انصاف کے متلاشی ہوں، تو نظامِ عدل سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔”
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے اپنے تبادلوں کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے، جس سے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔ ان ججز کا مؤقف ہے کہ ان کے تبادلوں کا فیصلہ نہ صرف بغیر کسی وجہ کے کیا گیا بلکہ اس عمل میں نہ تو شفافیت برتی گئی اور نہ ہی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، ان ججز نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے تبادلے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جس کا مقصد انہیں ان کے آئینی اور عدالتی کردار سے دور کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے عدلیہ کی خودمختاری، سینیارٹی کا اصول اور عدالتی غیرجانبداری متاثر ہو رہی ہے۔
یہ تبادلے اس وقت کیے گئے جب انہی ججز نے کچھ اہم عدالتی معاملات پر اختلافی نوٹ دیے اور کچھ انتظامی اقدامات پر سوال اٹھائے تھے۔ اس پس منظر میں یہ مؤقف تقویت پکڑتا ہے کہ شاید یہ ٹرانسفرز محض انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ججز اپنے مؤقف میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف عدالتی اصلاحات کی بنیاد بن سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ججوں کی تعیناتی اور تبادلے کے عمل کو شفاف بنانے پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ وکلا برادری میں بھی اس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ صرف چند ججز کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے۔
یہ معاملہ اب نہ صرف قانونی لحاظ سے بلکہ اصولی اور اخلاقی زاویے سے بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور اس کا اثر مستقبل میں عدلیہ اور ایگزیکٹو کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔



