“جو شخص مردہ قرار دیا جا چکا ہو، جب وہ ریاستی جنازے میں زندہ نظر آئے تو سوال صرف خبر کا نہیں، سچائی کا ہوتا ہے۔”

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر کو حالیہ دنوں مردہ قرار دیا گیا تھا، تاہم حیران کن طور پر وہ ایک ریاستی جنازے میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ باقاعدہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ نمودار بھی ہوئے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں تہلکہ مچا دیا ہے اور ایران کی داخلی معلومات کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ مشیر کی وفات کی خبر چند روز قبل ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ شدید علالت کے بعد انتقال کر چکے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں تو ان کے نام کے ساتھ تعزیتی بیانات تک جاری کیے گئے۔ لیکن اچانک ان کی جنازے میں موجودگی نے پوری صورت حال کو ڈرامائی موڑ دے دیا۔

ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ جنازے کی پہلی صف میں موجود تھے، سرکاری اہلکاروں سے ملاقات کر رہے تھے اور دعاؤں میں شریک ہو رہے تھے۔ اس غیر متوقع ظہور نے عوامی سطح پر قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے:

کیا ان کی موت کی خبر جان بوجھ کر پھیلائی گئی؟

یا یہ صرف انٹیلیجنس لیک تھی؟

کہیں یہ افواہ ان کی سکیورٹی سے جڑا معاملہ تو نہیں؟

سیاسی مبصرین اس واقعے کو ایرانی ریاست کے اندر بڑھتی خفیہ کشمکش یا حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جہاں اہم شخصیات کی “غیر موجودگی” بعض اوقات وقتی سکیورٹی یا پالیسی وجوہات کی بنا پر دکھائی جاتی ہے۔

ایران کی حکومت نے تاحال اس تضاد پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی، جس سے چہ مگوئیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں