بارہ دن کی جنگ، دونوں فریق زخمی — ایران اور اسرائیل کی تازہ لڑائی نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
حال ہی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روز تک جاری محدود جنگ نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگرچہ اسرائیل نے ایران کے حساس فوجی اور نیوکلیئر ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، مگر ایران نے اپنی سرزمین اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا۔
ایرانی عوام اور فوج نے نہایت جراتمندی اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اور دشمن کے حملوں کو روکنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ درجنوں شہداء نے اپنی جانیں دے کر ملک کی حفاظت کی اور اس عزم کو دنیا کے سامنے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع میں کسی قسم کی رعایت نہیں کرے گا۔
امریکی پابندیوں اور معیشتی دباؤ کے باوجود ایران نے خطے میں استحکام کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائی اور امن کے لیے ثالثی کی کوششیں کیں۔ ایران کی حکمت عملی نے خطے میں ایک طاقتور پیغام دیا کہ جارحیت کے جواب میں پرامن مذاکرات اور دفاعی تیاری دونوں ضروری ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بندی کو ایران نے قبول کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کو پھیلانے کے بجائے امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار بھی ہے۔
ایران کے اتحادی گروہوں نے بھی خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ ذمہ داری کا احساس ظاہر کیا اور غیر ضروری تصادم سے گریز کیا۔ ایران کی یہ حکمت عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف خود کو بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو پرامن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کی امن پسند کوششوں کو سراہے اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔ ایران نے اپنی قربانیوں اور دفاعی اقدامات سے یہ پیغام دیا ہے کہ جارحیت کے آگے صبر و استقامت سے نمٹا جا سکتا ہے، اور جنگ کی بجائے گفت و شنید ہی بہترین حل ہے۔




