ایران کے نائب وزیر خارجہ عراقچی کا ٹرمپ کو سخت پیغام، کہا ’اگر معاہدہ چاہتے ہیں تو ایرانی رہنما کے خلاف توہین آمیز زبان بند کریں۔‘
ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باقری عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اس کے رہنماﺅں کے خلاف کی جانے والی توہین آمیز زبان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عراقچی نے کہا ہے کہ اس طرح کی زبان استعمال کرنا مذاکرات کے عمل اور امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
عراقچی نے واضح کیا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا جوہری یا سیاسی معاہدہ چاہتا ہے تو اسے ضروری ہے کہ سفارتی آداب اور احترام کا خیال رکھا جائے، اور ایرانی رہنماﺅں کے خلاف توہین آمیز اور جارحانہ بیانات بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کی توہین کرنا مذاکراتی ماحول کو خراب کرنے کے مترادف ہے اور اس سے اعتماد کی فضا تباہ ہوتی ہے۔
یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام کو لے کر سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بعض سخت بیانات اور دھمکیوں نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ ایران نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ وہ پرامن جوہری پروگرام چاہتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے لیے دونوں فریقین کو عزت و وقار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
عراقچی کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران معاہدے کے لیے کھلا ہے مگر مذاکرات کا ماحول سازگار اور باعزت ہونا چاہیے تاکہ حقیقی پیش رفت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جارحانہ زبان اور دھمکیاں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔



