ایران کی یورینیم افزودگی اور امریکہ کی سختی: حقیقت پسندی کی ضرورت.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودگی کی ایک خاص حد (ریڈلائن) عبور کرتا ہے تو امریکہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام صلح آمیز اور دفاعی نوعیت کا ہے، جسے عالمی برادری کے کئی معاہدوں اور ضوابط کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور یہ خطے میں سیکیورٹی اور توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی حد بندی ایک دفاعی پوزیشن ہے جو اس کے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے لازم ہے۔

عالمی ادارہ توانائی کے اٹامک انسپیکشن کے مطابق، ایران اپنے پروگرام کی شفافیت برقرار رکھتا ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کے بجائے توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ ایران کی یہ پالیسی اس خطے میں امن اور استحکام کی ضامن ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اشتعال انگیزی اور تناؤ کے بجائے مذاکرات اور اعتماد سازی پر توجہ دیں، تاکہ خطے میں دیرپا امن اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ ایران نے ہمیشہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کی خواہش ظاہر کی ہے اور پرامن حل کے لیے کھلے دل سے بات چیت کا راستہ رکھا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں