سوات میں انسانی جانوں کا ضیاع — بانس کی کشتی، کھوکھلے دعوے.

سوات کے خوبصورت مگر کٹھن وادی میں ایک بار پھر ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا ہے جس نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ حکومتی نظام کی نااہلی اور لاپرواہی کو بھی بے نقاب کر دیا۔ دریا کے بیچ پھنسے 18 افراد کی زندگی بچانے کے لیے جب “ریسکیو کشتی” پہنچی، تو افسوسناک طور پر دو گھنٹے گزر چکے تھے، اور سب کے سب ڈوب چکے تھے۔

یہ کشتی جو لکڑی، ٹیوب اور بانس سے بنی تھی، بظاہر ایک امید کی کرن تھی مگر حقیقت میں ایک المناک تماشہ ثابت ہوئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ اس ملک میں انسانی جان کی قدر کتنی کم تر ہو چکی ہے۔ جب ایک طرف حکمرانوں کے لیے ہیلی کاپٹر، کروڑوں کی بلٹ پروف گاڑیاں اور ایئر ایمبولینسز جیسی سہولیات موجود ہیں، تو دوسری طرف عام عوام کو ایسے حالات کا سامنا ہے جہاں ان کی جان بچانے کے لیے محض ایک بانس کی کشتی دستیاب ہو پاتی ہے — وہ بھی اس وقت جب جانیں ختم ہو چکی ہوں۔

یہ واقعہ محض ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ اس ملک میں حکومتی نااہلی، وسائل کی عدم دستیابی، اور انتظامی غفلت کا گہرا عکس ہے۔ ایسے حالات میں سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا واقعی ہماری حکومت عوام کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہے؟ کیا عوام کے جان و مال کا تحفظ محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے؟ اور کیا اس ملک میں انصاف اور سہولیات سب کے لیے برابر ہیں یا صرف چند خاص لوگوں کے لیے مخصوص ہیں؟

پہلے کے دعوے جو ریسکیو آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی، فوری ردعمل، اور بہترین خدمات کی بات کرتے تھے، آج وہ سب صرف دکھاوے کی حد تک رہ گئے ہیں۔ اگر حالات یہ ہیں کہ دو گھنٹے بعد ریسکیو ٹیم اور کشتی وہاں پہنچے، تو پھر ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھنا ہی چاہیے۔

یہ وقت ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس دردناک واقعے سے سبق لیں اور فوری اقدامات کریں۔ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو جدید، فعال اور بروقت بنانے کے لیے وسائل اور تربیت میں بہتری لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

آخر میں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر جان قیمتی ہے، اور جب تک ہر انسان کی جان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح نہیں بنے گی، تب تک ایسے دردناک حادثات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنا نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جو ہر حکمران پر عائد ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں